کریکی کا ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم ترک کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کریکی کی انگیاں ضائع ہونے کے باعث انھیں کوہ پیمائی میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے

ایک جاپانی کوہ پیما نے جن کی نو انگلیاں کوہ پیمائی کے دوران شدید سردی کے باعث ضائع ہوگئی تھیں، دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نوبکازو کریکی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میں نے سخت کوشش کی، اپنی تمام تر توانائی کے استعمال کے باوجود برف میں چلنے میں بہت وقت لگ رہا تھا۔‘

زلزلے کے بعد ایورسٹ سر کرنا پہلے سے مشکل

ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش

ماؤنٹ ایورسٹ کے مددگار

’مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اگر میں چلتا رہا تو میں زندہ واپس نہیں آؤں گا۔‘

33 سالہ نوبکازو کریکی نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کو ترک کرنے کا فیصلہ آخری مرحلے میں چوٹی سر کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد کیا۔

نیپال میں رواں سال اپریل میں تباہ کن زلزلے کے بعد کسی بھی شخص کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیپال میں رواں سال اپریل میں تباہ کن زلزلے کے بعد کسی بھی شخص کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پہلی کوشش ہے

گذشتہ چھ برسوں میں ان کی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی یہ پانچویں کوشش تھی۔

کریکی ایک ماہ پہلے نیپال پہنچے تھے، انھوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے اسی راستے کا انتخاب کیا جو پہلی بار سنہ 1953 میں امنڈ ہیلری اور تن زنگ نورگے نے منتخب کیا تھا۔

کریکی سرد موسم میں تنہا اور کم سے کم ساز و سامان کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کوہ پیمائی کی خالص ترین شکل ہے اور اس میں خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘

وہ گذشتہ چھ برسوں میں چار بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کر چکے ہیں تاہم چاروں بار انھوں نے اپنی یہ کوشش ادھوری چھوڑ دی۔

سنہ 2012 میں وہ دو روز تک 27 ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں پھنسے رہے جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جس کے باعث ان کے ہاتھوں کی تمام انگیاں اور ایک انگوٹھا ضائع ہوگیا تھا۔

ان کی انگیاں ضائع ہونے کے باعث انھیں کوہ پیمائی میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں