فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی کی بلیٹر اور پلیٹینی سے تفتیش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پلیٹینی نے سنہ 1999 اور 2002 میں سیپ بلیٹر کے تکنیکی مشیر کے طور پر کام کیا تھا، لیکن انہیں پیسے نو برس بعد ادا کیے گئے

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلیٹر اور یورپین فٹبال کے سربراہ مائیکل پیلیٹینی سے تنظیم کی ضابطہ اخلاق کی کمیٹی نے بعض بےضابطگیوں کے متعلق پوچھ گچھ کی ہے۔

یہ قدم سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کی جانب سےسیپ بلیٹر کے خلاف مجرمانہ تفتیش کے آغاز کے بعد اٹھایا گيا ہے۔

ان پر تنظیم کے مفاد کے خلاف ایک معاہدے پر دسخط کرنے اور یونین آف یوروپین فٹبال ایسو سی ایشن ( یو ای ایف اے) کے سربراہ مائیکل پلیٹینی کو غلط طریقے سے رقم ادا کرنے کا الزام ہے۔

بلیٹر نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ پوری طرح سے تعان کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن کے مطابق ضابطہ اخلاق کی کمیٹی 2011 میں 20 لاکھ سوئس کرنسی کے لین دین سے متعلق جانچ کر رہی جو پلیٹینی کو مبینہ طور پر نو برس قبل ایک کام کرنے پر دی گئی۔

سوئٹزرلینڈ میں استغاثہ نے جمعہ کے روز فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کے خلاف مجرمانہ تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

اٹارنی جنرل کے دفتر کے حکام نے پلیٹینی سے، جنھوں نے سنہ 1999 اور 2002 میں بلیٹر کے تکنیکی مشیر کے طور پر کام کیا تھا، بطورگواہ اس سے متعلق پوچھ گچھ کی ہے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے پلیٹینی کو اس بات کی وضاحت پیش کرنی ہے کہ آخر ان کے کام کے لیے انھیں نو برس کے بعد اتنی بڑی رقم کیوں دی گئی۔

پلیٹینی نے کسی بھی طرح کا غلط کام کرنے سے انکار کیا ہے۔

79 سالہ بلیٹر سنہ 1998 سے فیفا کے انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں اور ہمیشہ ہی کسی بھی قسم کے ناجائز اقدامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔

گذشتہ مئی میں امریکی حکام کی طرف سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات پر زیورخ میں فیفا کے پانچ اہلکار گرفتار کیے گئے تھے۔

سیپ بلیٹر نے 29 مئی کو پانچویں مرتبہ فیفا کا صدارتی انتخاب جیتا تھالیکن بعد میں کرپشن کے الزامات کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں