اب بلال آصف کا مستقبل کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مشکوک بولنگ ایکشن سے متعلق آئی سی سی کے قوانین نے ایک اور آف سپنر کو ٹھکانے لگا دیا۔

تازہ ترین شکار پاکستانی بولر بلال آصف بنے ہیں جن کے بولنگ ایکشن کو ہرارے میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلے گئے تیسرے ون ڈے کے امپائروں نے شک کی نظر سے دیکھا اور آئی سی سی کو رپورٹ کر دی۔

آئی سی سی نے بلال آصف کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کر دیا

محمد حفیظ ایک سال تک بولنگ نہیں کر سکیں گے

’کئی ماہ کرکٹ سے دور رہنا اذیّت سے کم نہیں تھا‘

اس میچ میں بلال آصف نے پانچ وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن اب ان کا مستقبل بے یقینی سے دوچار ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بلال آصف کی تیسرے ون ڈے میں کی گئی 60 میں سے آٹھ گیندوں پر امپائروں نے اعتراض کیا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں شامل کیے جانے سے قبل بلال آصف کے بولنگ ایکشن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ سٹاف کی موجودگی میں کیمروں کے ذریعے جانچا گیا تھا اور ان کے بولنگ ایکشن کو قواعد وضوابط کے مطابق درست قرار دیا گیا تھا۔

تو پھر بلال آصف کا بولنگ ایکشن اچانک ہی کیسے مشکوک ہو گیا؟

اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی مشہور زمانہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کر سکا۔ یہ اکیڈمی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سٹاف اور ان کے مہمانوں کی آرام دہ قیام گاہ کے طور پر زیادہ استعمال میں رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ کو بھی بولنگ ایکشن پر ایک سالہ پابندی کا سامنا ہے

آج عالم یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جن کوچوں اور اسٹاف کی تقرری اکیڈمی کے نام پر کرتا ہے وہ پاکستانی ٹیموں کے ساتھ بیرون ملک دوروں کے مزے لوٹنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف کے دور میں مشکوک بولنگ ایکشن کو جانچنے کے لیے بائیومکینک لیب کا سامان منگوایا گیا تھا جو ان کے جانے کے بعد سڑتا رہا لیکن استعمال میں نہیں لایا گیا اور جب پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہوش آیا تو پتہ چلا کہ یہ سامان اب عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا بلکہ متروک ہو چکا ہے۔

رہی بات لیبارٹری کی تو وہ بھی ابھی تک نہیں بن سکی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کے لیے بھی کافی پیسہ خرچ کر ڈالا۔ انھیں متعدد بار بیرون ملک قائم آئی سی سی کی منظور شدہ بائیو مکینک لیبارٹریوں میں بھیجا گیا جبکہ ماضی کے مشہور آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات بھی حاصل کی گئیں لیکن 15 ڈگری میں رہ کر اپنی مخصوص گیند ’دوسرا‘ پہلے جیسی افادیت کے ساتھ کرنا سعید اجمل کے لیے ممکن نہ رہا اور اب وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے دن گن رہے ہیں۔

بلال آصف ایک باصلاحیت کرکٹر ہیں جنھوں نے کچھ عرصہ قبل کرکٹ میں مستقبل نہ دیکھ کر کویت جا کر محنت مزدوری کو ترجیح دی تھی لیکن پھر وطن واپس آئے اور کرکٹ شروع کی اور اس سال وہ اپنی عمدہ کارکردگی کے سبب سلیکٹروں کی نظروں میں آگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیعد اجمل کا بولنگ ایکشن کلیئر ہو گیا ہے لیکن اب پہلے جتنے موثر نہیں رہے

انھوں نے اس سال مئی میں صرف 48 گیندوں پر پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ کی تیز ترین ٹی 20 سنچری بھی سکور کی لیکن سلیکٹر ان کی آف سپن بولنگ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ محمد حفیظ کی کمی کو ان کے ذریعے کسی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے۔

بلال آصف سے قبل سعید اجمل، کین ولیمسن، محمد حفیظ، سینا نائیکے، تھارندو کوشل، پراسپر اتسیا، سوہاگ غازی، میلکم والر اور الامین حسین گذشتہ ایک سال کے دوران آئی سی سی کے امپائروں کے ریڈار میں آ چکے ہیں۔

بلال آصف کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کے بعد یہ سوال بھی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ کیا مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون صرف انھی ممالک کے لیے ہے جو بگ تھری میں شامل نہیں ہیں؟

کیا بگ تھری کے بولروں کے بولنگ ایکشن میں کوئی خامی نہیں ہے یا امپائروں نے ان کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں؟

اسی بارے میں