کیا سعید اجمل ماضی کا حصہ بن چکے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درحقیقت سعید اجمل کے لیے مشکلات تین سال قبل انگلینڈ کے خلاف سیریز کے موقع پر ہی شروع ہوگئی تھیں

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم تین سال قبل پاکستان کے مقابلے پر آئی تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک ٹیم تھی لیکن تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں اسے وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

انگلینڈ کی ٹیم کو اس شکست سے دوچار کرنے میں والے آف سپنر سعید اجمل تھے جنھوں نے سیریز میں 24 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

’کئی ماہ کرکٹ سے دور رہنا اذّیت سے کم نہیں تھا‘

انگلینڈ کی ٹیم تین سال بعد ایک بار پھر پاکستان کے مقابلے پر ہے لیکن اب منظر بدل چکا ہے۔

انگلینڈ نہ عالمی نمبر ایک ٹیم ہے اور نہ ہی پاکستانی ٹیم میں سعید اجمل موجود ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم کبھی نہ کبھی دوبارہ عالمی نمبر ایک بننے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن کیا سعید اجمل انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ کر پہلے جیسا فتح گر بننے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے شاید سعید اجمل کے پاس بھی نہیں۔

درحقیقت سعید اجمل کے لیے مشکلات تین سال قبل انگلینڈ کے خلاف سیریز کے موقع پر ہی شروع ہوگئی تھیں جب انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر باب ولس نے کمنٹری کے دوران سعید اجمل کی مشہور اور مؤثر گیند’دوسرا‘ کو مشکوک قرار دیا تھا جس کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کے بارے میں بحث شروع ہوگئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیعد اجمل نے 32 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا تھا

گذشتہ سال انگلش کرکٹرز سٹورٹ براڈ اور مائیکل وان نے ٹوئٹر پر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا خاصا مذاق اڑایا تھا لیکن پاکستانی کرکٹ اور خود سعید اجمل کے لیے کٹھن وقت وہ تھا جب وہ آئی سی سی کی جانب سے مشکوک بولنگ ایکشن کے خلاف شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کی زد میں آگئے۔

سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو قواعد و ضوابط کے مطابق کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کیں اور سعید اجمل کے متعدد بائیو مکینک ٹیسٹ بھی کرائے لیکن تبدیل شدہ بولنگ ایکشن کے ساتھ سعید اجمل پہلے جیسے موثر ثابت نہیں ہو سکے کیونکہ نئے بولنگ ایکشن کے ساتھ ان کی سب سے خطرناک گیند ’دوسرا‘ اپنا اثر کھو بیٹھی۔

تبدیل شدہ بولنگ ایکشن کے ساتھ ان کی واپسی بنگلہ دیش کے دورے میں ہوئی لیکن پہلے ہی ون ڈے میں انھیں 74 رنز دینے کے باوجود کوئی وکٹ نہ ملی جبکہ دوسرے ون ڈے میں انھوں نے 49 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

اسی دورے میں وہ ایک ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے لیکن اس میں بھی وہ خاص تاثر نہ چھوڑ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سعید اجمل بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکے

سعید اجمل نے اس سال ووسٹر شائر کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی لیکن آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں وہ 55 کی بھاری اوسط سے صرف 16 وکٹیں حاصل کر پائے جس میں ہمپشائر کے خلاف اننگز میں پانچ اور میچ میں آٹھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی شامل تھی لیکن اس کے بعد تین ایسی اننگز بھی آئیں جن میں ان کی بولنگ پر سو سے زیادہ رنز بنے اور وہ کاؤنٹی کا اعتماد کھو بیٹھے۔

سعید اجمل کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کا انحصار حالیہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں ان کی کارکردگی پر تھا لیکن چار میچوں میں صرف دو وکٹوں کی غیرتسلی بخش کارکردگی نے سلیکٹرز اور خود اجمل کی مایوسی میں اضافہ کر دیا۔

سعید اجمل اگرچہ ذرائع ابلاغ میں ریٹائرمنٹ کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے پاکستانی ٹیم میں واپسی کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت اس سے برعکس ہے۔ انھیں اپنی افادیت کھونے کا یقیناً اندازہ ہو چکا ہے۔

اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے رخصتی کا موقع فراہم کرے گا یا یہ سمجھ لیا جائے کہ سعید اجمل اپنا آخری بین الاقوامی میچ کھیل چکے۔

اسی بارے میں