پاکستان اور انگینڈ کرکٹ مقابلے، تنازعات اور تلخیاں

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی گئی کرکٹ سیریز تنازعات سے خالی نہیں رہی ہیں اور ان میں سے بعض بین الاقوامی کرکٹ کے چند بڑے تنازعات میں شامل ہیں۔

2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption تینوں کھلاڑیوں کو لندن کی ایک عدالت نے سزا سنائی تھی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے موقع پر سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے مرکزی کردار سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر تھے۔

سپاٹ فکسنگ کب کیا ہوا

سلمان بٹ کا اعتراف

ان تینوں کے بارے میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے بک میکر مظہر مجید کے انکشافات کی روشنی میں یہ خبر دی کہ لارڈز ٹیسٹ میں مخصوص اوورز میں یہ بولرز نوبال کرائیں گے جس کا انھوں نے معاوضہ وصول کیا ہے اور ہوا بھی وہی جو کہا گیا تھا۔

برطانوی پولیس نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران ٹیم کے ہوٹل پر چھاپہ مارا۔ کھلاڑیوں کے کمروں کی تلاشی لی اور کچھ کرنسی بھی برآمد کی۔

بعدازاں آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ساتھ ہی لندن کی عدالت نے بھی تینوں کھلاڑیوں اور مظہرمجید کو سزائیں سنائیں اور انھیں جیل جانا پڑا۔

2006 میں اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کا کھیلنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption انضمام الحق ٹیم کو میدان سے واپس لے گئے تھے

پاکستانی کرکٹ ٹیم پر اوول ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے پنالٹی کے پانچ رنز دے دیے۔

پاکستانی کپتان انضمام الحق کا مؤقف تھا کہ ڈیرل ہیئر نے کسی انتباہ کے بغیر یہ قدم اٹھایا ہے چنانچہ پاکستانی ٹیم نے چائے کے وقفے کے بعد میچ جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور جب اسے میچ کھیلنے کے لیے آمادہ کیا گیا تو امپائر ڈیرل ہیئر کھیل جاری رکھنے کے لیے تیار نہ تھے اور انھوں نے میچ ختم کرتے ہوئے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔

یہ تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا جس کا نتیجہ اس انداز سے سامنے آیا کہ کسی ٹیم کے کھیلنے سے انکار پر حریف ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا ہو۔

شکور رانا اور مائیک گیٹنگ کا جھگڑا 1987 ء ۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شکور رانا اور مائک گیٹنگ کے درمیان تلخی کی وجہ سے یہ سیریز کرکٹ کے حلقوں میں آج بھی زیر بحث آتی ہے

امپائر شکور رانا اور انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ کے درمیان فیصل آباد ٹیسٹ میں یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب شکور رانا نے گیٹنگ پر اعتراض کیا کہ وہ بولر کے گیند کرنے کے دوران اپنے فیلڈر کی پوزیشن تبدیل کرا رہے ہیں۔

دونوں کے درمیان میدان میں تکرار اس حد تک بڑھ گئی کہ امپائر شکور رانا نے گیٹنگ سے معافی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ایک پورا دن کھیل نہ ہو سکا اور مائیک گیٹنگ کو تحریری طور پر معافی مانگنی پڑی۔

1992میں بال ٹمپرنگ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption آنجہانی باب ولمر بال اسوقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے

پاکستانی فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقاریونس کا طوطی سرچڑھ کر بولا اور انھوں نے اپنی ریورس سوئنگ سے انگلش بیٹسمینوں کو آؤٹ کلاس کردیا لیکن پاکستانی

بولرز پر مبینہ طور پر گیند کے ساتھ گڑبڑ کر کے وکٹیں حاصل کرنے کا الزام عائد کیاگیا۔

انگلینڈ کے کرکٹر ایلن لیمب نے پاکستانی ٹیم پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا جس پر سرفراز نواز نے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تاہم بعد میں انھوں نےیہ مقدمہ واپس لے لیا۔

ایلن لیمب اور ای این بوتھم نے عمران خان کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا تھا لیکن دونوں یہ مقدمہ ہارگئے۔

2012 میں سعید اجمل کھٹکنے لگے

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سعید اجمل کے بالنگ ایکشن پر دو مرتبہ اعتراض ہوا

متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سعید اجمل کی 24 وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کے کلین سوئپ میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن سیریز کے آغاز سے ہی انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر باب ولس نے ان کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ پر اعتراض کر دیا اور سیریز کے اختتام تک ان کا بولنگ ایکشن موضوع بحث بن چکا تھا۔

1983:ساس کو پاکستان بھیج دو

تصویر کے کاپی رائٹ adren murel
Image caption گیٹنگ اور بوتھم پاکستان کے خلاف 1987 کی سیریز میں اول کرکٹ گراونڈ پر پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں

ای این بوتھم کو پاکستان کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا لیکن انھوں نے جاتے ہی پاکستان کے بارے میں یہ متنازع بیان دے ڈالا کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ اپنی ساس کو ایک ماہ کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

اس طنزیہ بیان پر بوتھم کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا واقعی پچ تبدیل ہوگئی 1974ء ۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1974 میں پاکستان ٹیم کی کپتانی مشاق محمد کر رہے تھے

پاکستانی ٹیم کے منیجر عمرقریشی نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران الزام عائد کیا کہ پچ اس حالت میں نہیں تھی جسے وہ تیسرے دن چھوڑ کر گئے تھے۔ اس زمانے میں پچ کو ڈھانپا نہیں جاتا تھا۔ اس وکٹ پر ڈیرک انڈرووڈ نے پاکستان کی آٹھ وکٹیں حاصل کر ڈالی تھیں تاہم پاکستانی ٹیم میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

2000 میں اندھیرے میں میچ کا اختتام

تصویر کے کاپی رائٹ laurence griffithis
Image caption ناصر حسین اس میچ میں کپتانی کر رہے تھے

کراچی ٹیسٹ میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کرکے سیریز بھی اپنے نام کی۔ نیشنل سٹیڈیم میں پاکستان کو پہلی بار شکست ہوئی۔

کپتان معین خان کی فیلڈ میں بار بار کی تبدیلیاں امپائر سٹیو بکنر کو وقت ضائع کرنے کی کوششیں معلوم ہوئیں اور وہ کم ہوتی ہوئی روشنی میں بھی میچ جاری رکھنے پر مصر دکھائی دیے اور جب انگلینڈ نے میچ جیتا تو تقریباً اندھیرا ہو چلا تھا۔

2005 میں آفریدی وکٹ کوخراب کرنے لگ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption شاہد آفریدی اس میچ میں کافی کرگر ثابت ہوئے تھے

فیصل آباد ٹیسٹ کے دوران اقبال سٹیڈیم میں شاہد آفریدی یہ جان کر کہ کوئی انھیں دیکھ نہیں رہا وکٹ پر رقص کرنے لگ گئے جس کا مقصد اسے خراب کرنا تھا۔ وہ کیمرے کی زد میں آگئے جس کےبعد میچ ریفری روشن مہانامہ نے ان پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی عائد کر دی۔

اسی بارے میں