’کلین سوئپ کا سوچ کر خود پر دباؤ نہیں ڈالنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق پاکستان کے سب سے زیادہ کامیاب کپتان ثابت ہوئے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو انگلینڈ کی شکل میں ایک بار پھر سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

یہ وہی انگلینڈ ہے جس کے خلاف تین سال قبل انھوں نے’ کلین سوئپ‘ کیا تھا یعنی سب کے سب میچ جیتے تھے تو کیا اس بار بھی انگلش ٹیم متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سپنرز کے سامنے آسانی سےڈھیر ہو جائے گی؟

کامیاب ترین ’مظلوم‘ کپتان

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے بہت بڑی سیریز ہے لیکن وہ کلین سوئپ کے بارے میں سوچ کر خود پر دباؤ ڈالنا نہیں چاہتے۔

’پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی کے سبب اس سیریز میں بھی لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر کلین سوئپ کر سکتی ہے لیکن ہمیں بہت زیادہ سوچنے کے بجائے بنیادی باتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ چھوٹے چھوٹے اہداف حاصل کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔اگر ہم نے ابھی سے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ہم اس بار بھی ان[یں تین صفر سے ہرا دیں گے تو یہ ہمارے لیے نقصان دہ ہوگا۔‘

مصباح الحق اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم سپن بولنگ کے شعبے میں تین سال پہلے والی ٹیم سے کمزور ہے لیکن ان کے تیز بولرز کو کسی طور نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔

’گریم سوآن اور مونٹی پنیسر کافی تجربہ کار بولرز تھے۔ معین علی اور عادل رشید اچھی بولنگ کر رہے ہیں لیکن ان کا تجربہ کم ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انگلینڈ کے تیز بولرز اینڈرسن اور براڈ نے تین سال پہلے بھی عمدہ بولنگ کی تھی اور ان کے خلاف ہمارے بیٹسمینوں کو ذمہ داری سے بیٹنگ کرنی ہوگی کیونکہ تین سال پہلے ہماری بیٹنگ مشکل میں رہی تھی۔‘

مصباح الحق کو یقین ہے کہ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر اس سیریز میں وہی کارکردگی دکھائیں گے جو سعید اجمل اور عبدالرحمنٰ ماضی میں دکھا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ سے پاکستان کی بہت امیدیں وابستہ ہیں

’یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے کارکردگی کاگراف نیچے نہیں آنے دیا ہے جس کا ثبوت آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف سیریز ہیں۔ سعید اجمل اور یاسر شاہ کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک روایتی لیگ سپنر ہے دوسرا مسٹری بولر تھا لیکن مجھے امید ہے کہ جس طرح سعید اجمل نے انگلش بلے بازوں کو مشکل سے دوچار کیا تھا یاسر شاہ کی جانب سے ایسی ہی کارکردگی سامنے آئے گی۔‘

مصباح الحق اس سیریز کے علاوہ اس وقت اگر کسی دوسری بات کا سوچ رہے ہیں تو وہ ریٹائرمنٹ ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیریز کے نتیجے کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔

’میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ آئندہ سال انگلینڈ کے دورے تک میں ٹیم کے لیے کتنا کارآمد ثابت ہو سکتا ہوں اگر میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس ٹیم کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے تو پھر کرکٹ جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن اگر میرے اندر جذبہ موجود رہا اور کارکردگی اچھی رہی تو پھر میں اسے جاری رکھوں گا لیکن اس سیریز کے نتیجے کی بنیاد پر میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ نہیں کروں گا۔‘

مصباح الحق 16 ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں جن میں سے سات میں کامیابی حاصل کی ہیں صرف تین سیریز پاکستانی ٹیم ہاری ہے اور چھ برابر رہی ہیں۔

انھوں نے 58 ٹیسٹ میچوں میں 4000 بنائے ہیں جن میں سے 2992 رنز انھوں نے کپتان کی حیثیت سے سکور کیے ہیں۔

اسی بارے میں