پاکستان اور انگلینڈ کا سخت امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عالمی کپ کے بعد نوجوان کرکٹرز کے ٹیم میں آنے سے انگلینڈ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کا ثبوت ایشیز کی جیت ہے

ایشیز کی فاتح انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم آج سے ایک مختلف اور سخت ترین امتحان سے گزرنے والی ہے اور یہ امتحان ہے متحدہ عرب امارات کی سپن وکٹوں اور سخت گرمی میں پاکستان سے مقابلہ۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں آج سے شروع ہو رہا ہے۔

پاکستانی ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ یہاں کھیلی گئی سات میں سے کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے تین ٹیسٹ سیریز جیتی جبکہ چار برابر رہی ہیں۔

پہلے ٹیسٹ سے قبل سپنر یاسر شاہ زخمی ہو گئے

’کلین سوئپ کا سوچ کر خود پر دباؤ نہیں ڈالنا‘

’پاکستان کے خلاف سیریز سب سے مشکل‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ کا سپن سکواڈ معین علی کے علاوہ عادل رشید اور سمیت پٹیل پر مشتمل ہے البتہ اس کا پیس اٹیک تجربہ کار ہے جس میں اینڈرسن 413 اور اسٹورٹ براڈ 308 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ سٹیون فن کی وکٹوں کی تعداد 102 ہے

پاکستانی ٹیم کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جیتی گئی تین سیریز میں سنہ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز بھی شامل ہے جس میں اس نے تینوں میچ جیت کر کلین سوئپ کیا تھا۔

اس سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کے لیے یہ وائٹ واش اس لیے بھی تکلیف دہ تھا کہ وہ لگاتار چھ ٹیسٹ سیریز جیت کر پاکستان کے مقابلے پر آئی تھی لیکن سعید اجمل اور عبدالرحمن کی شاندار بولنگ نے اسے آؤٹ کلاس کردیا تھا۔

اگرچہ اس بار انگلینڈ کی فتوحات کا تسلسل تین سال پہلے جیسا قابل ذکر نہیں ہے لیکن عالمی کپ کے بعد نوجوان کرکٹرز کے ٹیم میں آنے سے اس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کا ثبوت ایشیز کی جیت ہے۔

کپتان الیسٹر کک، نائب کپتان جو روٹ، ای این بیل اور جانی بیرسٹو انگلینڈ کی امیدوں کا مرکز ہیں البتہ اس کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ الیسٹر کک کے اوپننگ پارٹنر کی تلاش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ٹیم ایک بڑے سکور کے لیے ایک بار پھر یونس خان، مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفراز احمد سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے

اینڈریو اسٹراس کے جانے کے بعد سے انگلینڈ کی ٹیم متعدد اوپنرز کو آزما چکی ہے اور اب پاکستان کے خلاف اس نے آف سپنر معین علی کو اوپنر کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے جو عام طور پر آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہیں۔

انگلینڈ کا سپن سکواڈ معین علی کے علاوہ عادل رشید اور سمیت پٹیل پر مشتمل ہے البتہ اس کا پیس اٹیک تجربہ کار ہے جس میں اینڈرسن 413 اور اسٹورٹ براڈ 308 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ سٹیون فن کی وکٹوں کی تعداد 102 ہے۔

پاکستانی ٹیم کو اظہر علی کے بعد لیگ سپنر یاسرشاہ کے ان فٹ ہونے کا صدمہ سہنا پڑا ہے۔

پاکستان نے ان کے متبادل کے طور پر لیفٹ آرم سپنر ظفرگوہر کو طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ مصباح الحق کو آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں

یاسر شاہ مصباح الحق کو آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی ٹیم آخری چار میں سے تین ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے جبکہ ایک ڈرا رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم ایک بڑے سکور کے لیے ایک بار پھر یونس خان، مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفراز احمد سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔

اظہرعلی کے ان فٹ ہونے کے سبب شعیب ملک کو ٹیم میں جگہ مل گئی ہے جو تیسرے نمبر پر بیٹنگ کریں گے۔

ابوظہبی میں پاکستانی ٹیم نے سات ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے چار جیتے ہیں اور تین برابر رہے ہیں۔

اسی بارے میں