ریکارڈ اور واپسی کا جشن ساتھ ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد حفیظ اور شعیب ملک نے دوسری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 168 رنز کا اضافہ کیا

یونس خان کا صبر آزما انتظار بالآخر ختم ہوا اور وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے۔

یونس خان کے اس ریکارڈ کے علاوہ ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن شعیب ملک نے پانچ سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کو سنچری سے یادگار بنا دیا۔

یونس خان کا ریکارڈ توڑ چھکا

اوظہبی ٹیسٹ کے پہلے دن کی تصاویر

وہ کھیل ختم ہونے پر 14 چوکوں کی مدد سے 124 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ اسد شفیق 11 رنز پر کریز پر تھے اور پاکستان کا سکور 4 وکٹوں پر 286 رنز تھا۔

اظہرعلی اور یاسر شاہ کے نہ ہونے کا دکھ ابھی تازہ تھا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے صرف پانچ رنز پر شان مسعود کی وکٹ گنوائی جنھوں نے پالیکلے ٹیسٹ میں سنچری بناکر اس میچ میں اپنی جگہ مستحکم کر لی تھی اور ٹور سلیکشن کمیٹی کو احمد شہزاد پر محمد حفیظ کو فوقیت دینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

محمد حفیظ اور شعیب ملک نے دوسری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 168 رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونس خان میانداد کے 8832 رنز سے آگے نکل گئے ہیں

محمد حفیظ اس میدان پر دوسری مرتبہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے۔

گذشتہ سال وہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں96 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے اس مرتبہ بین سٹوک کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوکر وہ صرف 2 رنز کی کمی سے نویں ٹیسٹ سنچری سے محروم ہوگئے۔

شعیب ملک نروس نائنٹیز سے خود کو نکال کر لے گئے اور ٹیسٹ کرکٹ میں تیسری مرتبہ تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یونس خان نے پرسکون انداز میں اننگز شروع کی تھی اور 15 کے انفرادی سکور پر معین علی کو چھکا لگا کر وہ میانداد کے 8832 رنز سے آگے نکل گئے۔

انگلینڈ نے کھیل کے آخری سیشن میں یونس خان اور مصباح الحق کی اہم وکٹیں حاصل کرکے سکون کا سانس لیا۔

یونس خان 38 رنز بناکر براڈ کی گیند پر کک کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جیمز اینڈرسن کی بولنگ پر دو کیچ ڈراپ ہوئے

مصباح الحق تین کے انفرادی سکور پر اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر بٹلر کے ہاتھوں آؤٹ دیے گئے۔ امپائر پال رائفل نے انھیں ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا لیکن انگلینڈ کے ریویو پر ٹی وی امپائر بھارت کے ایس روی نے انھیں آؤٹ قرار دیا۔

اس سیریز میں ہاٹ سپاٹ اور سنیکو میٹر کا استعمال نہیں ہورہا ہے اور ٹی وی امپائر کو صرف مائیک پر سنائی دینے والی آواز پر فیصلہ کرنا ہے ۔

انگلینڈ کو ملنے والی چاروں وکٹیں تیز بولرز کی مرہون منت تھیں۔ دونوں سپنرز معین علی اور عادل رشید کو مجموعی طور پر 36 اوورز کرانے کے بعد بھی کوئی وکٹ نہ مل سکی۔

انگلینڈ کی فیلڈنگ کامعیار ایک بار پھر پست رہا۔ این بیل نے پہلے محمد حفیظ کا سات رنز پر اور پھر اسد شفیق کا دس رنز پر سلپ میں کیچ ڈراپ کردیا۔ دونوں مرتبہ بدقسمت بولر جیمز اینڈرسن تھے۔

عادل رشید اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

اسی بارے میں