اضافی سپنر نہ ہونے پر مصباح سخت مایوس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ توقع ہے کہ یاسر شاہ اور اظہرعلی دوسرے ٹیسٹ میچ تک فٹ ہوجائیں گے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ٹیم میں اضافی سپنر نہ ہونے پرسخت مایوسی کا ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ لیگ سپنر یاسر شاہ ابوظہبی ٹیسٹ سے ایک دن پہلے پریکٹس کے دوران کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے اور ٹیم میں ذوالفقار بابر کے علاوہ کوئی دوسرا ریگولر سپنر نہ ہونے کے سبب پاکستانی ٹیم کو فاسٹ بولر عمران خان کو ٹیم میں شامل کرنا پڑا ہے۔

پہلے ٹیسٹ سے قبل یاسر شاہ زخمی ہو گئے

یاسر شاہ دس بہترین بولروں میں شامل

’کلین سوئپ کا سوچ کر خود پر دباؤ نہیں ڈالنا‘

ابوظہبی ٹیسٹ کے ٹاس کے موقع پر مصباح الحق سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ٹیم میں سپنرز کم اور فاسٹ بولرز زیادہ نہیں ہیں؟ تو پاکستانی کپتان نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یہ بدانتظامی ہے اور اس پر انھیں سخت مایوسی ہے۔

واضح رہے کہ یاسر شاہ کے ان فٹ ہوجانے کے فوراً بعد پاکستانی ٹیم منیجمنٹ نے سلیکشن کمیٹی سے لیفٹ آرم سپنر ظفرگوہر کو ابوظہبی بھیجنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ ویزا بروقت نہ ملنے کے سبب ٹیسٹ میچ شروع ہونے تک ابوظہبی نہیں پہنچ سکے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ توقع ہے کہ یاسر شاہ اور اظہر علی دوسرے ٹیسٹ میچ تک فٹ ہو جائیں گے، لہٰذا ظفرگوہر کو اب متحدہ عرب امارات نہیں بلایا جا رہا ہے۔

ظفر گوہر پاکستان اے کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف شارجہ میں دونوں دو روزہ میچز کھیلے تھے لیکن ان میچوں کے بعد وطن واپس چلے گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے جب پاکستانی ٹیم کا اعلان کیا گیا تھا تو چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا تھا کہ شارجہ کے دو روزہ میچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر لیفٹ آرم سپنرز ظفرگوہر اور محمد اصغر میں سے کسی ایک کو 16ویں کھلاڑی کے طور پر ٹیم میں شامل کیا جائےگا۔

تاہم بعد میں شعیب ملک کو ان کی زمبابوے کے دورے میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم میں صرف دو ریگولر سپنرز یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر شامل کیے گئے ہیں جبکہ تیز بولرز وہاب ریاض، راحت علی، عمران خان اور جنید خان موجود ہیں۔

سعید اجمل کے غیر موثر ہونے کے سبب ٹیم میں شامل نہ کیے جانے اور محمد حفیظ پر ایک سالہ پابندی کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کو بولنگ کے شعبے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں