شیخ سلمان فیفا کی صدارت کی دوڑ میں، پلاٹینی کو یوئیفا کی حمایت

میشیل پلاٹینی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پلاٹینی پر فیفا کے سابق صدر سیپ پلیٹر سے پیسے لینے کا الزام ہے

یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) کے سربراہ میشیل پلاٹینی کو فیفا کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے یورپ کی فٹبال کی گورننگ باڈی نے حمایت کی ہے لیکن اسی دوران ان کا ایک نیا مدِمقابل سامنے آ گیا ہے۔

ایشین فٹ بال کے سربراہ شیخ سلمان بن ابراہیم الاخلیفہ جلد ہی مقابلے میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں۔

پلاٹینی پر الزام ہے کہ انھوں نے ورلڈ فٹ بال گورننگ باڈی کے سابق صدر سیپ بلیٹر سے ساڑھے 13 لاکھ یورو لیے تھے۔

79 سالہ پلاٹینی کو اس ادائیگی کے حوالے سے2011 سے مجرمانہ تحقیقات کا سامنا ہے۔ لیکن دونوں کسی بھی قسم کی غلط سرگرمی میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

یوئیفا کے ارکان نے جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں اس مسئلے پر بات چیت کرنے کے لیے ملاقات کی۔ یوئیفا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پلاٹینی کو ’اپنے بارے میں وضاحت دینے کا‘ موقع دیا جانا چاہیے۔

یوئیفا نے تفتیش کاروں کو بھی ’کام جلدی نمٹانے‘ کی ہدایت کی ہے اور طے پایا ہے کہ کیس کا فیصلہ رواں سال نومبر کے وسط تک کر دیا جائے۔

یوئیفا کی ملاقات کے بعد آسٹرین ساکر فیڈریشن کے صدر لیو ونڈٹنر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تمام 54 رکن ممالک اپنے صدر کی ’مکمل حمایت‘ کرتے ہیں۔

کچھ ہی دیر بعد بیان کی نقل نے بھی اس بات کی تصدیق کی: ’ہم میشیل پلاٹینی کی حمایت کرتے ہیں۔ اُن کا حق ہے کہ طریقۂ کار کے مطابق مقدمے کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں اور اُنھیں اس معاملے سے اپنے نام وابستہ ہونے کے حوالے سے وضاحت دینے کا موقع ملنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سلمان خلیفہ بھی مقابلے کی اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں

تاہم یوئیفا کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ارکان واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک وہ جو پلاٹینی کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو ایک متبادل منصوبے پر غور کرنا چاہتے ہیں۔

مائیکل فان پراگ ڈچ فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں۔ انھیں چند رکن ایسوسی ایشنوں کی جانب سے پلاٹینی کا متبادل اُمیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

پلاٹینی فیفا کے نائب صدر بھی ہیں لیکن گذشتہ ہفتے اُنھیں فیفا کی جانب سے بلیٹر کی طرف سے رقم کی ادائیگی کے حوالے سے تفتیش کے سلسلے میں ہر طرح کی فٹبال ایسوسی ایشنز سے 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ سیپ بلیٹر کو بھی معطل کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو اردن کے شہزادہ علی ابن الحسین نے انکشاف کیا کہ انھوں نے فیفا کی صدارت کے لیے سرکاری طور پر اپنے نام کا اندراج کرا دیا ہے۔ انھوں نے اصرار کیا کہ فروری میں ہونے والے انتخابات کو منصوبے کے مطابق منعقد ہونا چاہیے۔

بحرین کے شہزادے سلمان بن حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے پلاٹینی کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن پلاٹینی پر اپنا اعتماد کھونے کے بعد انھوں نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسی بارے میں