’ایک بچے کو بھی پتہ ہے کہ ٹرننگ وکٹ چاہیے تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ وہ جس شاٹ پر آؤٹ ہوئے اس کا انتخاب انھوں نے غلط کیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ابوظہبی ٹیسٹ کی وکٹ کو اپنی مرضی کے خلاف قرار دیا ہے ساتھ ہی وہ ان فٹ یاسر شاہ کا متبادل سپنر ٹیم میں نہ ہونے پر بھی خوش نہیں۔

پہلے ٹیسٹ کے خاتمے کے بعد سنیچر کو مصباح الحق نے کہا کہ ’ایک بچے کو بھی پتہ ہے کہ جب آپ انگلینڈ کے خلاف کھیل رہے ہیں تو آپ کو ٹرننگ وکٹ چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی واضح پیغام تھا لیکن اگر ایسی وکٹ نہیں بنی تو کیوں نہیں بنی اس بارے میں وہ خود بھی حیران ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ یاسر شاہ کے ان فٹ ہونے پر ٹیم میں متبادل سپنر کیوں موجود نہیں تھا اس سوال کا جواب سلیکشن کمیٹی سے پوچھا جائے کیونکہ وہ دی گئی پندرہ رکنی ٹیم میں سے گیارہ حتمی کھلاڑی منتخب کرنے کے مجاز ہیں جبکہ سلیکشن کمیٹی بہتر طور پر بتاسکتی ہے کہ متبادل سپنر موجود کیوں نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ جب آپ دو سپنرز کے ساتھ کھیلتے ہیں تو ایک سپنر بیک اپ میں ضرور ہوتا ہے لیکن یہ ایک غلطی تھی کہ کوئی بھی بیک اپ میں سپنر نہ تھا چاہے وہ کیسا بھی ہو۔

پاکستانی کپتان نے کہا کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی ہے کہ پندرہ یا سولہ رکنی ٹیم سلیکشن کمیٹی منتخب کرتی ہے کپتان کی رائے ضرور لی جاتی ہے لیکن حتمی فیصلہ سلیکشن کمیٹی کا ہوتا ہے جس میں ان کی مداخلت نہیں ہوتی۔

ابوظہبی ٹیسٹ کے پانچویں دن پاکستان کی مایوس کن بیٹنگ کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ پریشر کا کھیل ہے۔ انگلینڈ پر پریشر نہیں تھا وکٹ سے انگلش سپنرز کو رف جگہ سے ٹرن اور باؤنس مل رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایک رن آؤٹ اور دو خراب شاٹس سے ٹیم مشکل میں آگئی۔

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ وہ جس شاٹ پر آؤٹ ہوئے اس کا انتخاب انھوں نے غلط کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ آف سپنر کو سیٹ نہ ہونے دیا جائے اسی لیے سوئپ شاٹس بھی کھیل رہے تھے۔جس شاٹ پر وہ آؤٹ ہوئے اس وقت وہ انھیں نہیں کھیلنی چاہیے تھی۔

مصباح الحق نے کہا کہ اس ڈرا سے ان کی ٹیم کو وہ حوصلہ ضرور ملا ہے جو میچ ہارنے کی صورت میں ختم ہو سکتا تھا۔’دبئی میں ایک نیا میچ ہوگا اور کوشش کریں گے کہ اس میچ میں جو غلطیاں کی ہیں وہ نہ دوہرائی جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کی دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم کا پلان بہت سادہ تھا کہ چونکہ پانچویں دن کی پچ تھی جس پر سپنر کی گیندیں بلے پر آسانی سے نہیں آ رہی تھیں لہذا ان کے بیٹسمینوں پر دباؤ قائم کیا جائے اور میچ کو 15ویں اوور تک لے جائیں تو شکست سے بچا جاسکتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ پہلی اننگز میں اچھی بولنگ نہ کرنے کے بعد انگلینڈ کے دونوں اسپنرز نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی جس کا کریڈٹ انگلینڈ کی ٹیم منیجمنٹ کو جاتا ہے جس نے دونوں کو بہت زیادہ اعتماد دیا۔

اسی بارے میں