’ٹیسٹ نہ جیتنا بدقسمتی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹریور بیلیس نے الیسٹر کک کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی صبرواستقامت اور توجہ کانتیجہ ہے

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ٹریور بیلیس نے ابوظہبی ٹیسٹ نہ جیتنے کو بدقسمتی قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم بہت اچھا کھیلی۔

یاد رہے کہ انگلینڈ کو پہلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے انیس اوورز میں ننانوے رنز کا ہدف ملا تھا اور جب کھیل کم روشنی کے سبب ختم کیا گیا تو اسے جیتنے کے لیے آٹھ اوورز میں صرف پچیس رنز درکار تھے۔

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم کو کم روشنی سے متعلق قوانین کا علم تھا اور ہر ایک کو ان قوانین پر عمل کرنا ہے۔ وہ ان قوانین سے خوش ہیں۔

ٹریور بیلیس نے کہا کہ دوسرے دن کھانے کے وقفے پر اگر یہ کہا جاتا کہ یہ ٹیسٹ کونسی ٹیم جیتے گی تو وہ انگلینڈ کی ٹیم نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ عادل رشید نے وہی پرفارمنس دی جس کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے۔ پہلی اننگز میں اس وکٹ پر سپن بولنگ آسان نہ تھی اور یہ صرف عادل رشید کے ساتھ ہی نہیں دوسرے سپنرز کے ساتھ بھی ہوا لیکن دوسری اننگز میں عادل نے انتہائی متاثرکن بولنگ کی۔

ٹریور بیلیس نے الیسٹر کک کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی صبرو استقامت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں میں بہت ہی اچھے بیٹسمین موجود ہیں لیکن کک نے میدان میں چار دن رہ کر اپنی توجہ اور انہماک کا بھرپور مظاہرہ کیا اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انھوں نے اس طرح کی بیٹنگ کی ہے۔

ابوظہبی کی وکٹ کے بارے میں ٹریور بیلیس کا کہنا ہے کہ اس میں مزید پیس ہونا چاہیے تھا۔

پاکستانی ٹیم میں لیگ سپنر یاسر شاہ کی واپسی کے بارے میں انگلینڈ کے کوچ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹسمین یاسر شاہ کو اعتماد سے کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں