پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق منیجر یاور سعید انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاور سعید پاکستان کے پہلے غیر سرکاری کپتان میاں محمد سعید کے بیٹے اور فضل محمود کے برادر نسبتی تھے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق منیجر یاور سعید 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔

وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔

وہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل والے دورۂ انگلینڈ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر تھے۔ یاور سعید پاکستان کے پہلے غیر سرکاری کپتان میاں محمد سعید کے بیٹے اور فضل محمود کے برادر نسبتی تھے۔

وہ سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کے سسر بھی تھے۔

یاور سعید نے چھ سال فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیلی اور پنجاب اور انگلش کاؤنٹی سمرسٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے 59 میچوں میں 106 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

یاور سعید مختلف حیثیتوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے طویل عرصے تک وابستہ رہے۔

وہ لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیا کے زمانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز بھی رہے۔

انھیں کرکٹ کے وسیع تجربے کے سبب کئی بار منیجر کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

یاور سعید اصولوں کے سخت پابند تھے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی طور برداشت نہیں کرتے تھے۔

1984 میں پاکستانی ٹیم کے دورۂ نیوزی لینڈ کے موقع پر انھوں نے لیگ سپنر عبدالقادر کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر وطن واپس بھیج دیا تھا۔

بحیثیت منیجر ان کا آخری دورہ 2010 ء میں انگلینڈ کا تھا جس میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا ۔اسی دورے میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ ا ن کی صحت گرگئی تھی اور وہ چلتے ہوئے چھڑی کا استعمال کرتے تھے۔

یاور سعید 1987 کے عالمی کپ کے انتظامی معاملات میں بھی پیش پیش رہے تھے۔ اس عالمی کپ کی میزبانی پاکستان اوربھارت نے مشترکہ طور پر کی تھی۔

یاور سعید اور عمرقریشی اس دو رکنی کمیٹی میں شامل تھے جس نے شکور رانا اور مائیک گیٹنگ تنازعے کی رپورٹ مرتب کی تھی جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کو بھیجی تھی۔

اسی بارے میں