ایک روزہ میچ میں تین سنچریاں، جنوبی افریقہ کی 214 رنز سے جیت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے انڈیا کے بولروں کی خوب پٹائی کی

انڈیا کے شہر ممبئی میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے تین کھلاڑیوں نے اوپر تلے تین سنچریاں بنا کر چار وکٹوں کے نقصان پر مقررہ 50 اوورز میں 438 رنز بنائے جس کے تعاقب میں انڈیا کی پوری ٹیم 35.5 اوورز میں 224 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو شکست دے کر ایک روزہ سیریز اپنے نام کر لی۔

یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ٹیم کے تین کھلاڑیوں نے ایک روزہ میچ میں تین سنچریاں بنائی ہوں۔

جنوبی افریقہ کے سنچریاں بنانے والے کھلاڑیوں میں کونٹین ڈی کوک (109)، ڈو پلیسس (133) اور ڈی ویلیئرز (115) شامل ہیں۔

انڈیا کی طرف سے ریحانے اور دھون کے علاوہ کوئی بیٹسمین بھی قابلِ ذکر سکور نہ بنا سکا۔ دونوں نے بالترتیب 87 اور 60 رنز بنائے۔

انڈیا کی طرف سے سب سے پہلی وکٹ شرما کی تھی جنھوں نے 16 رنز بنائے، اس کے بعد 44 کے سکور پر کوہلی سات رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ دھون اور ریحانے نے مل کر سکور کو آگے بڑھایا لیکن وہ بھی 156 کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئے۔ رائنا 12 رنز بنا کر واپس لوٹے لیکن ریحانے کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے رابادا نے چار اور سٹین نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

جنوبی افریقہ کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ہاشم آملہ تھے جو ایک روزہ میچوں میں سب سے تیز 6000 رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے۔ انھوں نے یہ اعزاز 123 اننگز میں حاصل کیا۔

ان سے پہلے یہ اعزاز ورات کوہلی کے پاس تھا اور یہ اعزاز انھوں نے 136 اننگز میں حاصل کیا تھا۔ اس طرح آملہ ایک روزہ میچوں میں اب تیز ترین 2000، 3000، 4000، 5000، اور 6000 رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

انڈیا کے بولر صرف چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سکے جبکہ ڈو پلیسس کو زخمی ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر جانا پڑا۔

آخری 12 اوورز میں جنوبی افریقہ نے 15 چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 169 بنائے۔

اسی بارے میں