ون ڈے سے ریٹائر نہیں ہوا، ایک دن ضرور کھیلوں گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہ ون ڈے سے ریٹائر نہیں ہوا: یونس خان

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین یونس خان نے عالمی کپ کے بعد ون ڈے ٹیم سے ڈراپ ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے اور انھیں یقین ہے کہ وہ دوبارہ ون ڈے کھیلیں گے۔

’یونس اور میانداد کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا‘

’یونس میں رنز کی بھوک اب بھی پہلے جیسی ہے‘

دبئی ٹیسٹ کے چوتھے دن پاکستان کی دوسری اننگز میں اپنی 31ویں سنچری مکمل کرنے کے بعد یونس خان میڈیا کے سامنے آئے توان سے پہلا سوال یہی تھا کہ کیا آپ اب بھی ون ڈے کھیلنا چاہتے ہیں؟

یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ ون ڈے سے ریٹائر نہیں ہوئے انھیں خوشی ہوگی کہ اگر وہ ون ڈے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔انھیں یقین ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن دوبارہ ون ڈے میں نظر آئیں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یونس خان نے ون ڈے کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اس سے قبل بھی وہ ون ڈے میں اپنی شمولیت کے لیے مضبوط دلائل دیتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نہیں معلوم کہ اپنے کریئر کے عروج پر ہوں یا نہیں، یہ ضرور معلوم ہے کہ اب میرے پاس وقت کم ہے

انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے متحدہ عرب امارات آنے سے قبل یونس خان نے کراچی میں سینیئر صحافیوں سے غیررسمی ملاقات میں بھی یہی بات کی تھی کہ وہ ون ڈے کھیلنا چاہتے ہیں۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کے سلیکشن کا پیمانہ ایک ہی ہوتا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے شعیب ملک کی مثال دی تھی کہ وہ کافی عرصے سے پاکستانی ٹیم سے باہر تھے لیکن چونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مختلف لیگس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے لہذا انھیں اسی کارکردگی کی بنا پر پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی یہی کرسکتے ہیں کہ اگر وہ جس فارمیٹ میں آؤٹ آف فارم ہیں تو وہ اپنی فارم حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سطح پر اسی فارمیٹ میں کھیلیں گے یا جس فارمیٹ کے لیے دستیاب ہیں اسی میں کھیل کر وہ دوبارہ ون ڈے میں آسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شعیب ملک کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کی جس عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر شامل کیا گیا وہ انھوں نے زمبابوے کے دورے میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں دکھائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان کے بارے میں مشہور ہے کہ اپنے ساتھیوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں

یونس خان نے اتوار کے روز اپنی 31ویں سنچری کے بعد کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ وہ اپنے کریئر کے عروج پر ہیں یا نہیں۔ انھیں یہ ضرور معلوم ہے کہ اب ان کے پاس وقت کم ہے اور وہ اسے اپنی عمدہ کارکردگی سے کیش کرانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹنگ پاکستان کے کام آئے۔

یونس خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بیٹنگ کے دوران اپنے ساتھی بیٹسمینوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی نوجوان بیٹسمین پر بیٹنگ کے دوران اپنی رائے مسلط نہیں کرتےاور جب کوئی نوجوان بیٹسمین ان سے یہ کہتا ہے کہ وہ کوئی شاٹ کھیلنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہتے ہیں کیوں نہیں ضرور کیھلو لیکن سوچ سمجھ کر۔

وہ کسی بھی نوجوان بیٹسمین کو اس کا قدرتی کھیل کھیلنے سے نہیں روکتے اسی لیے نوجوان بیٹسمین بھی ان سے خوش رہتے ہیں۔

اسی بارے میں