’تیسرے دن ہی میچ ہارگئے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ یکم نومبر سے شروع ہوگا

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان الیسٹرکک نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی ٹیم دبئی ٹیسٹ تیسرے دن ہی اسوقت ہارگئی تھی جب اس کی سات وکٹیں سکور میں صرف ساٹھ رنز کے اضافے پر گرگئی تھیں۔

الیسٹر کک کا کہنا ہے کہ دو اچھے دنوں کے بعد تیسرے دن کی کارکردگی سے انھیں سخت مایوسی ہوئی تھی۔ ٹیسٹ میچ میں آپ کو پانچوں دن پوری طاقت سے کھیلنا پڑتا ہے۔

’پاکستان کو مصباح کی ضرورت ہے‘

پاکستان نے انگلینڈ کو 178 رنز سے ہرا دیا

انھوں نے وہاب ریاض کے بارے میں کہا کہ انھوں نے ننانوے میل فی گھنٹے کی رفتار سے بولنگ کی اور ریورس سوئنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو بکھیر دیا۔

کک نے عادل رشید کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بڑے دل کے ساتھ بیٹنگ کی اور میچ بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن انھیں اپنے آؤٹ ہونے اور انگلینڈ کی شکست پر بہت مایوسی تھی۔

کک نے شارجہ ٹیسٹ میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں کہا کہ وکٹ دیکھے بغیر کچھ کہنا مشکل ہے۔

اس سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ انھیں یقین تھا کہ ان کے بولرز انگلینڈ کی آخری دو وکٹیں کسی بھی وقت حاصل کر کے میچ جتوا دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس جیت کے بعد مصباح الحق کی41 ٹیسٹ میچوں میں کامیابیوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے

پاکستان نے دبئی ٹیسٹ 178 رنز سے جیتا تو صرف 39 گیندیں باقی تھیں۔

اس جیت کے بعد مصباح الحق کی41 ٹیسٹ میچوں میں کامیابیوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے ۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اگر صرف تین یا چار بیٹسمین آؤٹ ہوئے ہوں تو پھر آخری سیشن میں بولرز کے لیے بقیہ وکٹیں حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن جب ایک یا دو وکٹیں ہی بچی ہوں تو پھر یہ دو گیندوں کا کھیل ہوتا ہے اور اس صورتحال میں پریشر بیٹنگ سائیڈ پر بھی پڑتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ دونوں سپنرز یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی۔ ذوالفقار بابر نے دوسری اننگز میں انگلینڈ کے بیٹسمینوں کے لیے کافی مشکلات پیدا کیں اسی لیے انھوں نے بابر سے زیادہ بولنگ کرائی جس سے بیٹسمینوں پر دباؤ بھی بڑھا۔

مصباح نے وہاب ریاض کے پہلی اننگز کے سپیل کو میچ کا نقشہ بدل دینے والا سپیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم اس وقت اچھی پوزیشن میں تھی لیکن وہاب کے سپیل نے صورتحال بدل دی۔

یاد رہے کہ وہاب ریاض نے اس سپیل میں نو اوورز میں صرف 15 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہی سپیل انھیں مین آف دی میچ ایوارڈ دلانے کا سبب بھی بنا۔

سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ یکم نومبر سے شروع ہوگا۔

اسی بارے میں