’کک اور جو روٹ میرا ہدف ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذوالفقاربابر کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مقابلے میں زیادہ اچھی تیاری کےساتھ متحدہ عرب امارات آئی ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کا کہنا ہے کہ وہ شارجہ ٹیسٹ میں انگلینڈ کے کپتان الیسٹرکک اور جوروٹ کی وکٹیں حاصل کرنا چاہیں گے جو سپن بولنگ کے خلاف اچھے بیٹسمین سمجھے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ذوالفقار بابر نے جو روٹ کی وکٹ حاصل کی تھی۔

ذوالفقار بابر نے جمعے کے روز شارجہ سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے تربیتی سیشن کے موقعے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ الیسٹر کک پر مرکوز ہے جو انگلینڈ کے سب سے اہم بیٹسمین ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے نمبر پر جو روٹ ہیں۔ وہ چاہیں گے کہ ان دونوں کی وکٹیں حاصل کریں۔

ذوالفقاربابر نے کہا کہ ابتدا میں انگلش بیٹسمینوں کو بولنگ کرتے ہوئے دشواری محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے بعد انھوں نےبائیں ہاتھ سے بلےبازی کرنے والے بیٹسمینوں کو بولروں کے قدموں سے پیدا ہونے والے نشانات سے بولنگ کرنے شروع کی جبکہ کک ایسے بیٹسمین ہیں جنھیں آپ ایک ہی لائن پر بولنگ کریں گے تو وہ غلطی ضرور کریں گے۔

ذوالفقار بابر نے کہا کہ ابوظہبی ٹیسٹ میں بولنگ آسان نہ تھی لیکن انھوں نےدونوں اننگز میں 77 اووروں کی طویل بولنگ کی۔

ذوالفقار بابر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی بولنگ پر کافی کیچ بھی ڈراپ ہوئے اس کا کتنا افسوس ہے، تو ان کاجواب تھا کہ کرکٹ میں ایسا ہوتا رہتا ہے، اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ان کی گیندوں پر شان مسعود نے دو اور اسد شفیق نے ایک کیچ ڈراپ کیا تھا۔

ذوالفقار بابر کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مقابلے میں زیادہ اچھی تیاری کےساتھ متحدہ عرب امارات آئی ہے کیونکہ اس نے سپن بولنگ کو بہت اچھا کھیلنے والے سری لنکن بیٹسمین مہیلا جے وردھنے کی خدمات حاصل کی تھیں۔

ذوالفقار بابر نے تسلیم کیا کہ پہلے ٹیسٹ میں یاسر شاہ کے نہ ہونے سے بھی ان کی کارکردگی متاثر ہوئی اور وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے تاہم جب دبئی ٹیسٹ میں یاسر شاہ آگئے تو ان کی کارکردگی میں بھی فرق آگیا۔

ذوالفقار بابر کا کہنا ہے کہ شین وارن سے انھوں نے بھی مفید مشورے حاصل کیے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کو بہت فائدہ ہو گا۔

اسی بارے میں