کیا بولرز پاکستان کو جتوا دیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ذوالفقار بابر کی ایل بی ڈبلیو کی اپیلیں امپائر نے مسترد کیں تو پاکستان کے ریویوز ’امپائرز کال‘ کی وجہ سے اس کے خلاف گئے

اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے شعیب ملک کی عمدہ بولنگ نے شارجہ ٹیسٹ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کر دی ہے۔

انگلینڈ کو یہ میچ جیت کر سیریز برابر کرنے کے لیے 111 اوورز میں 284 رنز کا ہدف ملا لیکن چوتھے دن کھیل کے اختتام پر وہ 46 رنز پر 2 وکٹوں سے محروم ہو چکی ہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

شارجہ ٹیسٹ کا چوتھا دن: تصاویر میں

یہ دونوں وکٹیں شعیب ملک نے صرف سات گیندوں پر حاصل کیں۔

معین علی 22 رنز بنا کر شعیب ملک کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انھوں نے وکٹ بچانے کے لیے ریویو کا سہارا لینے کی کوشش کی لیکن نہ بچ سکے۔

شعیب ملک نے ای این بیل کو کھاتہ کھولنے کا موقع دیے بغیر ہی بولڈ کر دیا۔

اب میچ کے آخری دن انگلینڈ کو جیت کے لیے 90 اوورز میں 238 رنز بنانے ہوں گے اور پاکستانی ٹیم آٹھ وکٹیں حاصل کر کے سیریز کو دو صفر پر ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ایشیا میں انگلینڈ کا سب سے کامیاب ہدف عبور کرنے کا سکور 209 رنز ہے جو اس نے پانچ سال قبل بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ میں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شعیب ملک کی عمدہ بولنگ نے شارجہ ٹیسٹ میں پاکستان کی گرفت مضبوط کردی ہے

پاکستانی ٹیم اننگز کے آغاز میں ہی اپنے دونوں ریویوز سے محروم ہو چکی ہے۔

کپتان کک اور جو روٹ کے خلاف ذوالفقار بابر کی ایل بی ڈبلیو کی اپیلیں امپائر نے مسترد کیں تو پاکستان کے ریویوز ’امپائرز کال‘ کی وجہ سے اس کے خلاف گئے۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں 355 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور اس کے آخری سات بلے بازوں نے سکور میں مزید 209 رنز کا اضافہ کیا۔

محمد حفیظ کے سوا کوئی بھی بیٹسمین قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا جنھوں نے 15 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 151 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی ایک سو پچاس سے زائد رنز کی چوتھی اننگز ہے۔

ان کے لیے دن کا پہلا ہی اوور کٹھن رہا۔ عادل رشید کی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر ناٹ آؤٹ دیے جانے پر انگلینڈ نے ریویو لیا جس پر ٹی وی امپائر پال رائفل کا فیصلہ حفیظ کے حق میں گیا۔

پھر تیسری گیند پر وہ بال بال بچے۔ گیند لیگ سٹمپ کے بہت قریب سے گئی اور وکٹ کیپر بیرسٹو نے بھی انھیں سٹمپڈ کرنے کا موقع ضائع کیا۔

تاہم اس کے بعد حفیظ نے نائٹ واچ مین راحت علی کے صفر پر اینڈرسن کے ہاتھوں بولڈ ہونے کے بعد مصباح الحق کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کی شراکت میں 93 رنز کا اضافہ کیا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معین علی کی گردن پر وہاب ریاض کی تیز گیند لگی مگر خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے

یہ شراکت براڈ نے مصباح الحق کو ایل بی ڈبلیو کر کے ختم کی جو اس کیلینڈر سال میں ان کی 50ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔

محمد حفیظ اپنی طویل اننگز میں 109 کے سکور پر بھی آؤٹ ہونے سے بچے جب براڈ اپنی ہی گیند پر ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے لیکن ان کی اننگز معین علی کی گیند پر ای این بیل کے ہاتھوں کیچ پر ہی ختم ہوئی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ای این بیل کا سوواں کیچ تھا۔

اس کے بعد اسد شفیق اور سرفراز احمد 55 رنز کی شراکت قائم کر کے سکور کو 312 تک لے گئے۔ سرفراز احمد 36 گیندوں پر اتنے ہی رنز بنا کر سمیت پٹیل کی خوبصورت گیند پر وکٹ نہ بچا سکے۔

اس سیریز میں سرفراز احمد کا سب سے بڑا سکور 39 رنز رہا اور چھ سیریز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی ٹیسٹ سیریز میں نصف سنچری نہیں بنا پائے ہیں۔

اسد شفیق کو سٹورٹ براڈ نے 46 رنز پر بولڈ کیا اور انھیں سیریز میں تیسری نصف سنچری مکمل نہیں کرنے دی۔

انگلینڈ کے بولرز میں سٹوئرٹ براڈ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ اینڈرسن نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے اور سیریز کا اختتام 13 وکٹوں پر کیا ۔

اسی بارے میں