پاکستان کی نہ بولنگ چلی نہ بیٹنگ نتیجہ شکست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگلینڈ کے تین ابتدائی بیٹسمینوں کی عمدہ بیٹنگ نے پاکستانی بولرز کو سراٹھانے کا موقع نہیں دیا۔

پاکستانی ٹیم کے تیور دو دن میں ہی بدل گئے۔دوسرے ون ڈے میں غیرمتاثرکن بولنگ کے بعد مایوس کن بیٹنگ نے اسے 95 رنز کی شکست پر مجبور کردیا۔انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں پر 283 رنز کا اسکور کیا جو پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں لینے کے لیے کافی ثابت ہوا۔

پاکستانی ٹیم 46 ویں اوور میں صرف 188 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی ۔پہلے ون ڈے کی استعمال شدہ وکٹ پر انگلینڈ کے تین ابتدائی بیٹسمینوں کی عمدہ بیٹنگ نے پاکستانی بولرز کو سراٹھانے کا موقع نہیں دیا۔

پہلے ون ڈے میں صفر پر آؤٹ ہونے والے جیسن روئے اور جو روٹ نے نصف سنچریاں اسکور کیں لیکن انگلینڈ کی اننگز کو استحکام دینے والے الیکس ہیلز تھے جنہوں نے اپنی پہلی ون ڈے سنچری بنائی۔

جیسن روئے اور الیکس ہیلز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 102 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد دوسری وکٹ کی بھی سنچری شراکت پاکستانی ٹیم کی مایوسی بڑھانے کی منتظر تھی۔

ہیلز اور روٹ نے114 رنز بنائے۔الیکس ہیلز ٹی 20 کے ماہر بیٹسمین ہیں وہ اس طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں سنچری بنانے والے انگلینڈ کے پہلے بیٹسمین ہیں لیکن50 اوورز کی انٹرنیشنل کرکٹ میں انہیں اپنی پہلی سنچری کے لیے 21 اننگز تک انتظار کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جیسن روئے اور الیکس ہیلز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 102 رنز کا اضافہ کیا

انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے لیگ اسپنر یاسر شاہ کو خاص طور پر ٹارگٹ بنایا جن کے نو اوورز میں 70 رنز بنے جو ان کی ون ڈے میں دوسری سب سے خراب ترین کارکردگی ہے ۔ اس سے قبل انھوں نے سری لنکا کے خلاف ہمبنٹوٹا کے ون ڈے میں آٹھ اوورز میں 73 رنز دیے تھے۔

ہیلز اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے افتخار احمد کی پہلی وکٹ بنے جنہیں اس میچ میں بلال آصف پر فوقیت دی گئی ۔وہاب ریاض اور محمد عرفان عمدہ بولنگ کرتے ہوئے آخری اوورز میں رنز کی رفتار روکنے میں کامیاب رہے ۔انگلینڈ کی ٹیم آخری دس اوورز میں 56 رنز بناسکی۔

پاکستانی بیٹنگ کسی بھی موقع پر اعتماد میں دکھائی نہیں دی اوراسکور کی نصف سنچری مکمل ہونے تک وہ پانچ وکٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔اوپنر کی حیثیت سے کھلائے گئے بابر اعظم چار اور پہلے میچ کے سنچری میکر محمد حفیظ بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئے تو کپتان اظہرعلی کو انگلینڈ کے جوابی وار کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا۔

افتخار احمد نے پانچ رنز بنانے کے لیے 21 گیندیں کھیلیں جس سے ان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دباؤ کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔

شعیب ملک اسی میدان میں پہلے ٹیسٹ کی ڈبل سنچری کے بعد سے بڑے اسکور کو ترس گئے ہیں۔اظہرعلی بھی زمبابوے کے دورے سے بڑی اننگز کی تلاش میں ہیں۔ یہ تینوں بیٹسمین کرس واکس کا نشانہ بنے جو گذشتہ چھ میچوں میں وکٹ سے محروم رہے تھے۔

پاکستانی بیٹنگ میں واحد مزاحمت سرفراز احمد کی جانب سے دیکھنے میں آئی جنہوں نے اپنی تیسری ون ڈے نصف سنچری اسکور کی لیکن یہ اننگز صرف شکست کے فرق کو ہی کم کرسکی۔سرفراز احمد کرس واکس کی اننگز کی چوتھی وکٹ بنے جس کے بعد انگلینڈ کے لیے آخری بیٹسمین عرفان کی وکٹ حاصل کرنا آسان ہوگیا۔

اسی بارے میں