شارجہ کے سکورر میاں بیوی

Image caption یہ کرکٹ کے میدان میں میاں بیوی کی جانب سے سکورنگ کرنے کی پہلی مثال ہے

شارجہ کرکٹ سٹیڈیم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ وہ ہر حال میں دنیا کو اپنا منفرد انداز دکھاتا رہے گا۔

مثال کے طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ون ڈے میچوں کی میزبانی، جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی ہیٹ ٹرک اور ایسی کئی دیگر عمدہ انفرادی کارکردگیاں۔

اور پھر ان دلچسپ میچوں کو دیکھنے کے لیے آئی ہوئی صنف نازک کے کانوں میں پہنے ہوئے جُھمکوں کو بیان کرنے کا کمنٹیٹر ہنری بلوفیڈ کا دلچسپ انداز۔

حکیم الدین اور ان کی بیگم نفیسہ کا سکورنگ کرنا بھی شارجہ کی انھی خوبصورت روایات کا تسلسل ہے۔

دونوں داؤدی بوہرہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑے انہماک سے شارجہ کے پریس باکس میں سکورنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

غالباً یہ کرکٹ کے میدان میں میاں بیوی کی جانب سے سکورنگ کرنے کی پہلی مثال ہے۔

حکیم الدین کا اپنا کاروبار ہے لیکن کرکٹ سےجنون کی حد تک شوق ہے۔ وہ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کے ابتدائی دنوں سے سکورنگ کر رہے ہیں۔ وہ شارجہ کے ہردلعزیز آفیشل سکورر محمد علی جعفری کے معاون کے طور پر بھی سکورنگ کر چکے ہیں۔

محمد علی جعفری کو شارجہ میں مسلسل 198 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی آفیشل سکورنگ کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔

ان کے انتقال کے بعد حکیم الدین شارجہ کے پریس باکس میں سکورنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اب ایک سال سے ان کی بیگم بھی ان کے ساتھ سکورنگ کر رہی ہیں۔

حکیم الدین کے لیے اپنی بیگم کے ساتھ سکورنگ دلچسپ تجربہ رہی ہے۔

’میری بیگم کو کرکٹ کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے ایک دن انھوں نے مجھ سے سکورنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی تو میں انھیں سٹیڈیم لے آیا اور میں نے دیکھا کہ وہ درست طریقے سے سکورنگ کر لیتی ہیں اس طرح یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کے ہوتے ہوئے مجھے سکورنگ کرنے میں آسانی ہوگئی ہے۔‘

Image caption نفیسہ کا کہنا ہے کہ گھر کے حساب کتاب کی طرح کرکٹ میچوں کا حساب کتاب رکھنا بھی آسان نہیں ہے

حکیم الدین اور نفیسہ کے دو بچے ہیں جو داؤدی بوہرہ برادری کی سورت (بھارت) میں واقع یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔

نفیسہ کہتی ہیں کہ بچے بھی ان کی سکورنگ پر خوش ہیں۔

’جب بچوں کو پتہ چلا کہ میں بھی سکورنگ کررہی ہوں تو پہلے انھیں بڑی حیرت ہوئی لیکن ساتھ ہی وہ خوش بھی ہوئے تھے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے میاں بیوی کی سکورنگ کی کوئی مثال سامنےنہیں آئی تھی۔‘

نفیسہ کا کہنا ہے کہ گھر کے حساب کتاب کی طرح کرکٹ میچوں کا حساب کتاب رکھنا بھی آسان نہیں ہے۔

’یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے کیونکہ معمولی سی غلطی سب کام خراب کر سکتی ہے لیکن ہم دونوں ایک دوسرے کے کام پر نظر رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘

نفیسہ سے پوچھا کہ پریس باکس میں کس کی مرضی چلتی ہے تو ان کا جواب تھا شوہر کی۔

’میں ابھی سکورنگ میں نئی ہوں اور ابھی مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے، لہٰذا حکیم مجھے بتاتے رہتے ہیں۔‘

حکیم الدین کا کہنا ہے کہ آج کل کرکٹ سکورنگ پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گئی ہے۔

’پہلے کمپیوٹر اور دوسری سہولتیں نہیں تھیں ہر چیز مینوئل تھی اس وقت سکورنگ کرنا بہت مشکل تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سکورنگ آسان ہوگئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپ سہل پسند ہو جائیں۔ نگاہیں اب بھی ہر گیند پر ہوتی ہیں اور آپ کسی بھی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

اسی بارے میں