بٹلر نے پاکستانی بولرز کو لوٹ لیا، سیریز بھی ہاتھ سےگئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بٹلر نے پہلی نصف سنچری 30 گیندوں پر مکمل کی تھی

جوز بٹلر کی تیز ترین سنچری کی عادت نے اس مرتبہ پاکستانی بولرز کے پیروں تلے زمین کھینچ لی۔

دبئی سٹیڈیم میں ان کی صرف 46 گیندوں پر بننے والی ون ڈے کی ساتویں تیز ترین اور انگلینڈ کی سب سے تیز ترین سنچری نے جیسن روئے کی پہلی ون ڈے سنچری کو پس منظر میں ڈالتے ہوئے میچ اور سیریز پر انگلینڈ کی مہرتصدیق ثبت کردی۔

میچ اور سیریز انگلینڈ کے نام: تصاویر

انگلینڈ کے پہاڑ جیسے سکور 355 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کا جواب پاکستانی ٹیم صرف 271 رنز کی صورت میں دے سکی اور 84 رنز سے ہارگئی۔

پاکستان کی آخری7 وکٹیں سکور میں صرف 95 رنز کا اضافہ کر پائیں جس سے مڈل آرڈر بیٹنگ کی مایوس کن کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پچھلے چھ سال سے کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست پاکستانی ٹیم کی گیارہویں ون ڈے سیریز میں یہ نویں ناکامی ہے۔

جوز بٹلر جنھوں نے اس سے قبل سری لنکا کے خلاف 61 اور نیوزی لینڈ کے خلاف 66 گیندوں پر سنچری سکور کی تھی پاکستانی بولرز کو تختہ مشق بناتے ہوئے صرف 52گیندوں پر116 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز میں 8 چھکے اور 10 چوکے لگا ڈالے۔

بٹلر نے پہلی نصف سنچری 30 گیندوں پر مکمل کی تھی لیکن ان کی دوسری نصف سنچری صرف 16 گیندوں میں بنی۔

انگلینڈ نے 41 ویں اوور میں کپتان اوئن مورگن کی وکٹ گنواتے ہوئے چار وکٹوں پر 229 رنز بنائے تھے اسوقت تک بٹلر نے چودہ گیندوں پر چودہ رنز ہی بنائے تھے لیکن پھر ان کا موڈ بولرز پر ایسا بگڑا کہ وہ کسی کے قابو میں نہ آئے۔ان کی جارحیت کا سب سے زیادہ نشانہ انورعلی بنے جن کے آخری دو اوورز میں43 رنز بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیریز میں پہلی بار کھیلنے والے احمد شہزاد ایک ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے

محمد عرفان اور وہاب ریاض کے لیے بھی ان سے دامن بچانا ممکن نہ ہوسکا۔ پاکستانی بولرز نے آخری 9 اوورز میں 126 رنز دے ڈالے۔

اس سے قبل جیسن روئے اور جوروٹ نے بھی پاکستانی بولرز کو کچھ کم پریشان نہیں کیا۔

جیسن روئے نے اپنی پہلی ون ڈے سنچری اسکور کی اور 71 رنز بنانے والے جوروٹ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں140 رنز کا اضافہ کرڈالا۔

دونوں لگاتار اوورز میں آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم کو امید ہوچلی تھی کہ وہ انگلینڈ کو بڑے اسکور سے باز رکھ سکے گی لیکن جوز بٹلر کی جارحانہ اننگز نے سب کچھ ہی بدل دیا۔

ٹیسٹ سیریز کے سب سے کامیاب بولر یاسر شاہ جنہیں پچھلے میچ کے کامیاب بولر ظفر گوہر کی جگہ اس میچ میں کھلایا گیا اپنے آخری اوور میں وکٹ لیتے ہوئے سیریز میں دوسری مرتبہ پچاس سے زائد رنز دینے کے خطاوار ٹھہرے۔

پاکستانی ٹیم کو جس مستحکم آغاز کی ضرورت تھی وہ نہ مل سکا اور اس کے بعد بھی کوئی بڑی پارٹنرشپ قائم نہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی بڑی اننگز دیکھنے میں آ سکی۔ ایک موقع پر تو ایسا لگا کہ جیسے ہر بیٹسمین ٹیم کے بجائے اپنے لیے کھیل رہا ہے۔

سیریز میں پہلی بار کھیلنے والے احمد شہزاد ایک ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور ساتویں اوور میں صرف 13 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

کپتان اظہرعلی نے جارحانہ انداز اختیار کیا لیکن دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 44 رنز بناکر وہ بھی نویں اوور میں ڈیوڈ ولی کی میچ میں دوسری وکٹ بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کی آخری7 وکٹیں سکور میں صرف 95 رنز کا اضافہ کر پائیں

محمد حفیظ 37 رنز کی اچھی اننگز کھیلتے کھیلتے اس بار بابر اعظم کے ساتھ رن آؤٹ کی گتھی میں الجھ کر خود رن آؤٹ ہوگئے۔

بابراعظم نے اپنے ٹیلنٹ کی جھلک دکھائی لیکن نصف سنچری بناتے ہی عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہوگئے جنہوں نے اپنے اگلے ہی اوور میں محمد رضوان کی وکٹ بھی حاصل کر کے پاکستانی ٹیم کی مزاحمت کو زبردست دھچکہ پہنچایا۔

رضوان نے اس سیریز میں سخت مایوس کیا۔وہ تین اننگز میں بالترتیب 17، 1 اور 11 رنز ہی بنا پائے۔

شعیب ملک بھی نصف سنچری بناتے ہی پویلین کی راہ لیتے نظر آئے جس کے بعد باقی ماندہ اننگز محض رسمی کارروائی ثابت ہوئی۔

اسی بارے میں