چھ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پہلی شکست، نہ بولر چلے نہ بیٹسمین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس شکست نے شاہد آفریدی کا بحیثیت کپتان حساب بھی اب پندرہ پندرہ سے برابر کردیا

پہلے پاکستانی بولرز سے رنز نہ رک سکے اور پھر بیٹسمینوں سے رنز بن نہ سکے یوں نتیجہ پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 14 رنز کی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔

پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے اسکور 160 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں 146 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

مسلسل چھ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بعد پاکستانی ٹیم کی یہ پہلی شکست ہے۔

انگلینڈ نے پاکستان کو 14 رنز سے شکست دے دی

ریکارڈ بک میں انگلینڈ کا پلہ بھاری

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دوسری پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش

اس شکست نے شاہد آفریدی کا بحیثیت کپتان حساب بھی اب پندرہ پندرہ سے برابر کردیا۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو چوتھے اوور میں صرف19 رنز پر تین وکٹیں گنوانے کی وجہ سے میچ پر پاکستانی ٹیم کی گرفت مضبوط دکھائی دے رہی تھی لیکن سیم بلنگز، جیمز ونس اور کپتان اوئن مورگن پاکستانی بولرز پر حاوی ہوگئے۔

اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے چوبیس سالہ جیمز ونس نے ایک چھکے اور چھ چوکوں کی مدد سے41 رنز سکور کیے۔

انہوں نے کپتان مورگن کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں قیمتی76 رنز کا اضافہ کیا۔

مورگن اور وکٹ کیپر سیم بلنگز کی شراکت میں بننے والے 65 رنز سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئے۔

مورگن ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 45 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے لیکن سیم بلنگز اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔

وہ صرف پچیس گیندوں پر دو چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے53 رنز بناکر اننگز کے آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے۔

شاہد آفریدی کا چار تیز بولرز کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ شعیب ملک کے ان فٹ ہوجانے کے بعد مجبوری کا سودا تھا لیکن سوائے انور علی کے کوئی بھی بولر رنز روکنے میں کامیاب نہ ہوسکا جنہوں نے چار اوورز میں صرف انیس رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

سہیل تنویر نے جو پہلے دو اوورز میں بارہ رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے اگلے دو اوورز میں بیس رنز دے ڈالے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے چوبیس سالہ جیمز ونس نے ایک چھکے اور چھ چوکوں کی مدد سے41 رنز سکور کیے

وہاب ریاض اس دورے میں تینوں ٹیسٹ اور چاروں ون ڈے کھیلنے کے بعد اب تھک چکے ہیں ۔انہوں نے پہلے ہی اوور میں 15 رنز دے ڈالے اور پھر ان کے آخری اوور میں چودہ رنز بنے۔

عمران خان جونیئر نے چار اوورز میں 42 رنز دے کر سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ان کا آخری اوور 19 رنز کا تھا۔

کپتان شاہد آفریدی کو میچ سے ایک دن قبل پریس کانفرنس میں اپنی خراب کارکردگی سے متعلق پوچھا گیا سوال بہت برا لگا تھا۔ لیکن وہ اس کڑوے سوال کا بھرپور جواب اس میچ میں بھی اپنی اچھی کارکردگی سے دینے سے قاصر رہے اور ان کے چار اوورز میں 33 رنز بنے جن میں آخری اوور میں بننے والے 14 رنز بھی شامل ہیں۔

اس سال شاہد آفریدی آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں صرف دو وکٹیں حاصل کرسکے ہیں۔

پاکستانی اننگز کا آغاز سرفراز احمد اور اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے رفعت اللہ مہمند نے کیا۔

رفعت اللہ مہمند39 سال 20 دن کی عمر میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کرنے والے ٹیسٹ ملکوں میں سب سے عمر رسیدہ کرکٹر بن گئے۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ بھارت کے راہول ڈراوڈ کا تھا جنہوں نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 38 سال 232 دن کی عمر میں کھیلا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے صرف 42 رنز پر چار وکٹوں سے ہاتھ دھوکر ہدف تک رسائی مشکل بنادی۔

سرفراز احمد کا بیٹ اس پورے دورے میں خاموش رہا ہے اور دس اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری سکور کرسکے ہیں۔

محمد حفیظ نے آخری ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری دو سال پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن میں بنائی تھی اس کے بعد سے پندرہ اننگز میں وہ کوئی قابل ذکر اننگز نہیں کھیل سکے ہیں۔

محمد رضوان کا ٹیلنٹ بھی اس دورے میں نہیں جاگ سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انور علی کے دو چھکوں نے سکور کو تین ہندسوں تک پہنچایا جس کے بعد سہیل تنویر اور وہاب ریاض کا غصہ انگلش بولرز پر خوب برسا تو ایسا لگا کہ انہونی ہونی میں بدل سکتی ہے

صہیب مقصود اور عمراکمل آٹھویں اوور میں یکجا ہوئے تو یہی پاکستانی ٹیم کی آخری امید بھی تھی لیکن عمر اکمل کے مضحکہ خیز رن آؤٹ سے یہ امید بھی دم توڑگئی۔

ستم بالائے ستم اسی اوور میں شاہد آفریدی کے بغیر رن بنائے آؤٹ ہو جانے نے شائقین کی آخری دلچسپی بھی ختم کردی۔

جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ملتان میں پیدا ہونے والا ہر بیٹسمین انضمام الحق نہیں ہوتا۔ یہ بات اب صہیب مقصود کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی ہوگی۔17 ٹی ٹوئنٹی کھیل کر بھی ان کی بیٹنگ اوسط 15 رنز کی بھی نہیں ہے۔

انور علی کے دو چھکوں نے سکور کو تین ہندسوں تک پہنچایا جس کے بعد سہیل تنویر اور وہاب ریاض کا غصہ انگلش بولرز پر خوب برسا تو ایسا لگا کہ انہونی ہونی میں بدل سکتی ہے۔ لیکن دونوں کے درمیان نویں وکٹ کی شراکت میں بننے والے 45 پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

اسی بارے میں