’پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط پر ابھی فیصلہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption بھارتی وزارت خارجہ کے بیان سے قیاس آرائی تو فی الحال ختم ہوگئی ہے لیکن یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ اگر حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی نہیں دکھائی گئی تھی تو بھارتی بورڈ نے پاکستان کو بھارت آکر کھیلنے کی دعوت کس بنیاد پر دی تھی؟

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے رشتوں کی بحالی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے رات دیرگئے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ کرکٹ سیریز کے بارے میں سوالات پر اپ ڈیٹ: ابھی بھارت اور پاکستان کے درمیان سیریز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘

بھارتی میڈیا میں جمعرات کی صبح سے ہی یہ قیاس آرائی جاری تھی کہ حکومت نے مجوزہ سیریز کی اجازت دیدی ہے۔

اس کے بعد انڈین پریمئر لیگ کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر راجیو شکلانے کہا کہ دونوں ملک سری لنکا میں کھیلنے پر تیار ہوگئے ہیں اور یہ سیریز ممکنہ طور پر 15 دسمبر سے کھیلی جائے گی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں پاکستانی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر بھی چل رہی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پی سی بی کو سری لنکا میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے بعد قیاس آرائی تو فی الحال ختم ہوگئی ہے لیکن یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ اگر حکومت کی جانب سے ہری جھنڈی نہیں دکھائی گئی تھی تو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے پاکستان کو بھارت آ کر کھیلنے کی دعوت کس بنیاد پر دی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Both Photos by AFP
Image caption ممکنہ طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز 15 دسمبر سے سری لنکا میں کھیلی جائے گی

بورڈ کے اہلکار ماضی میں کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کرکٹ کے رشتوں کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن باہمی تعلقات کی حساس نوعیت کے پیش نظر حتمی فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔

اس لیے تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ حکومت کی رضامندی کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر بی جے پی کے رہنما ہیں اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کرکٹ کے منتظم ادارے سے بہت قریب سے وابستہ ہیں اور بورڈ کے نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

کئی ٹی وی چینلوں پر حکومت کے اس ’فیصلے‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور بحث کا محور یہ تھا کہ جب تک پاکستان ‎’دہشت گردی کی پشت پناہی بند نہیں کرتا، اس کے ساتھ کرکٹ کیسے کھیلی جاسکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس ’فیصلے‘ کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ٹوئٹر پر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے صاف انکار کردینا چاہیے۔

اسی بارے میں