فیفا کے مزید 16 عہدیداروں پر بدعنوانی کا الزام عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس زیورخ میں جاری ہے اور اصلاحات کی منظوری کے لیے اجلاس ہو رہا ہے

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے امریکی حکام نے تنظیم کے مزید 16 موجودہ اور سابق عہدیداروں پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ نیا چالان امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے زیورخ میں فیفا کے دو نائب صدور کے گرفتاری کے چند گھنٹے بعد جاری کیا گیا ہے۔

فیفا کے سپانسرز کی جانب سے اصلاحات کے جائزے کا مطالبہ

بلیٹر اور پلاٹینی پر سات سال کی پابندی متوقع

فیفا بدعنوانی: جوش ماریا مارن امریکی عدالت میں

’رشوت اور خفیہ ادائیگیاں کرنے میں ملوث‘ ان افراد میں برازیلین فٹبال کے موجودہ سربراہ مارکو پولو ڈیلنیر اور فیڈریشن کے سابق سربراہ ریکارڈو ٹیزیرا بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان میں لاطینی امریکہ کی فٹبال تنظیم کے الفریدو ہیوٹ، گوئٹے مالا کی فٹبال فیڈریشن کے تین عہدیداران سمیت افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے اہم افراد شامل ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ان افراد نے کھیل کو کرپٹ کرنے کی سازش کی اور کک بیکس اور رشوت کی مدد میں 20 کروڑ ڈالر لیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس اعلان سے یہ پیغام واضح ہے کہ اگر کوئی مجرم بھی ہے اور چھپ رہا ہے یہ سوچ کر کے ہماری تحقیقات سے بچ جائے گا۔ آپ ہمیں مزید انتظار نہیں کروائیں گے، آپ ہماری نگاہ سے نہیں بچ سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ d
Image caption فیفا کا کہنا ہے کہ امریکی اور سوئس حکام کی تفتیش سے مکمل تعاون کیا جائے گا

اس سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے ایک ہوٹل سے فٹبال ایسوسی ایشن کے دو نائب صدور کو لاکھوں ڈالر رشوت لینے کے شک پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

لاطینی امریکہ کی فٹبال تنظیم کے الفریدو ہیوٹ اور کیریبئن کی فٹبال تنظیم کے ہوان انخل ناپوت کو حراست میں لیا گیا۔ زیورخ کے اسی ہوٹل سے مئی میں فیفا کے کئی عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کو ان گرفتاریوں کی درخواست کی تھی اور فیفا کا کہنا ہے کہ امریکی اور سوئس حکام کی تفتیش سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

سوئٹزرلینڈ کے وفاقی دفتر برائے انصاف کا کہنا ہے کہ ہیوٹ اور ناپوت پر شک ہے کہ انھوں نے لاطینی امریکہ میں ٹورنامنٹوں، ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچوں میں مارکیٹنگ کے حقوق دینے کے عوض رشوت لی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ان دونوں پر لاکھوں ڈالر رشوت لینے کا الزام ہے۔ ان دونوں نے پچھلی سماعت پر خود کو امریکہ کے حوالے کرنے کی مخالفت کی تھی۔

فیفا کی اصلاحاتی کمیٹی کے چیئرمین نے زیورخ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں فیفا میں تبدیلی لانے کے عمل کے لیے اہم ہیں۔

انھوں نے کہا ’فیفا بحران کا شکار ہے اور یہ بحران فیفا میں تبدیلیاں لانے کا عمدہ موقع ہے۔‘

اسی بارے میں