میرے خون کے نمونوں کے نتائج درست ہیں: کرس فروم

تصویر کے کاپی رائٹ PA

کینیا میں پیدا ہونے والے برطانوی سائیکلسٹ کرس فروم نے اپنے خون کے نمونوں کے نتائج جمع کرانے کے بعد کہا کہ ’وقت ثابت کرے گا کہ یہ نتائج درست ہیں۔‘

کرس کے مطابق انھیں امید ہے کہ ان کے مخالفین کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات انھیں کچھ حد تک مطمئن کر دیں گے۔

’سائیکلنگ میں اب بھی ممنوعہ ادویات عام ہیں‘

ان کا کہنا ہے: ’میں جانتا ہوں کہ میں نے کیا کیا ہے، یہ صرف میں ہی ہوں جو یہ کہہ سکتا ہے کہ میں 100 فیصد ٹھیک ہوں۔‘

برطانوی سائیکلسٹ کے مطابق: ’میں نے قوانین نہیں توڑے، میں نے بے ایمانی نہیں ہے، میں نے ایسا کوئی خفیہ مواد نہیں کھایا جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں اپنے خون کے نمونے کے نتائج کو جانتا ہوں اور وقت ثابت کرے گا یہ نتائج درست ہیں اور اس بارے میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔‘

سائیکلنگ کی بین الاقوامی یونین (یو سی آئی) نے سنہ 2007 میں اکٹھے کیے جانے والے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں جن میں کرس فروم نے حصہ لیا تھا۔

واضح رہے کہ یو سی آئی کی جانب سے اکٹھے کیے جانے والے خون کے نمونے موجودہ معیار کے حساب سے نامکمل ہیں کیونکہ یہ 2009 میں ’حیاتیاتی پاسپورٹ‘ کے اجرا سے پہلے کے ہیں۔

یو سی آئی نے کرس فروم کے وی او ٹو میکس اور تھریش ہولڈ پاور ٹیسٹ لیے جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ کوئی سائیکلسٹ چڑھائی کے دوران اپنا وزن کم کر لے تو سائیکلنگ کی بڑی ریس جیت سکتا ہے۔

برطانیہ کی فارماسیوٹیکل کمپنی گلیسکو سمتھ کلائین کے سینئیر سائنس دان ڈاکٹر فلپ بیل نے کرس فروم نے وی او ٹو میکس کی مقدار کو ’ انسانی جسم کی حد سے اوپر‘ قرار دیا ہے۔

کرس کے 13 جولائی سے 20 اگست کے دوران ایسکوائر بیالوجیکل پاسپورٹ خون کے نتائج بھی لیے گئے جس کے مطابق فروم کا ہیوموگلوبن ٹیسٹ 15.3 رہا۔

فروم کے سابق ساتھی سر بریڈلے ویگنز نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ برطانیہ کو فروم کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کٹھن مہم کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال نہیں ہے کہ فروم کے طبی نمونے ان شکوک کو بدل دینے کے لیے ناکافی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کو شبہ ہے کہ فروم نے جو کیا وہ غلط ہے۔

اسی بارے میں