بھارتی جواب کے انتظار کے ساتھ ساتھ تیاریاں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption بھارتی کرکٹ بورڈ بدستور اپنے اس موقف پرقائم ہے کہ پاک بھارت سیریز کا انحصار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ مجوزہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کی تیاریوں کے سلسلے میں سری لنکن کرکٹ بورڈ سے مستقل رابطے میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اجازت ملتے ہی سری لنکن بورڈ کو بھی فوری طور پر گرین سگنل دے دیا جائے گا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکن بورڈ کو سیریز کا جو شیڈول بھیجا ہے اس میں تین ون ڈے انٹرنیشنل اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ شامل ہیں۔

بھارت کی ہاں یا نہ، فیصلہ پیر کو متوقع

پاکستانی حکومت نے پاک بھارت کرکٹ سیریز کی اجازت دے دی

پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط پر ابھی فیصلہ نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیموں کے قیام، پچز کی تیاری اور دیگر معاملات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے بھی سری لنکن کرکٹ بورڈ سے مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے سات دسمبر کو کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے دورۂ پاکستان کے دوران ہو جائے گا۔

وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگرچہ وقت بہت کم رہ گیا ہے لیکن وہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے تعاون سے تمام انتظامات کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان نے سات دسمبر کو کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے دورۂ پاکستان کے دوران ہو جائے گا

شہریار خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے بھارت سے سیریز ہونے کی صورت میں پاکستانی ٹیم کو حتمی شکل دے کر نام ان کے حوالے کردیے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ بدستور اپنے اس موقف پرقائم ہے کہ پاک بھارت سیریز کا انحصار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہے۔

بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر نےآئی پی ایل کی ٹیموں کی نیلامی کے موقع پر کہا کہ وہ اس سیریز کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتے اور اس کا فیصلہ ’حکومت کو کرنا ہے اسے کرنے دیں۔‘

جب ششانک منوہر سے پوچھا گیا کہ حکومت کی جانب سے اجازت میں تاخیر کے سبب کیا یہ سیریز مختصر ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا کہ اس کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے کیونکہ یہ سیریز اسے منعقد کرنی ہے اور اس کے تمام تر انتظامات بھی اسے کرنے ہیں۔

یاد رہے کہ بی سی سی آئی نے یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا تاہم اس نے سری لنکا میں یہ سیریز کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنی حکومت سے اس کی اجازت ابھی تک حاصل نہیں کر سکا ہے۔

اسی بارے میں