مصباح الحق ’آئیکون‘ کرکٹرز کے انتخاب سے ناخوش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح نے اس ضمن میں پاکستان سپر لیگ کے اعلی افسران سے بھی بات کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے پاکستان سپر لیگ میں ’آئیکون‘ کرکٹرز کے انتخاب میں پاکستانی کرکٹرز پر غیرملکی کرکٹرز کو ترجیح دیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے سخت احتجاج کیا ہے ۔

پاکستان سپر لیگ کے لیے جن پانچ ’آئیکون‘ کرکٹرز کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں پاکستان کے صرف دو کرکٹرز شاہد آفریدی اور شعیب ملک شامل ہیں جبکہ تین غیرملکی کرکٹرز کرس گیل، کیون پیٹرسن اور شین واٹسن کو آئیکون کرکٹرز کے طور پر رکھا گیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ ، فرنچائز اور نشریاتی حقوق فروخت

محمد عامر پاکستان سپر لیگ میں شامل

اس کے برعکس مصباح الحق اور محمد حفیظ جیسے پاکستانی کرکٹرز حیران کن طور پر ’آئیکون‘ درجے سے محروم رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کے مقابلے آئندہ سال چار سے 23 فروری تک دبئی اور شارجہ میں منعقد ہوں گے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مصباح نے اس ضمن میں پاکستان سپر لیگ کے اعلی افسران سے بھی بات کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کی لیگ ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس میں اپنے کرکٹرز کو فوقیت دینی چاہیے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق اور یونس خان پلاٹینم کیٹگری کا حصہ ہیں

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے افسران نے مصباح الحق کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ غیرملکی کھلاڑیوں کو’آئیکون‘ درجہ دیے جانے کے باوجود پاکستان سپر لیگ میں پانچوں ٹیموں کی قیادت پاکستانی کرکٹرز ہی کریں گے۔

تاہم گذشتہ دنوں پاکستان سپر لیگ کی ورکشاپ میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی تھی کہ ’آئیکون‘ کرکٹرز ہی اپنی اپنی ٹیموں کے کپتان ہوں گے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگز کھیلی جا رہی ہیں ان میں آئیکون کرکٹرز ان ملکوں کے اپنے کرکٹرز کو بنایا جاتا ہے جو ان کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے اور وہی کرکٹرز اپنی اپنی ٹیموں کی کپتانی بھی کرتے ہیں۔

اس ضمن میں سب سے بڑی مثال بھارت میں راہول ڈراوڈ اور انیل کمبلے کی ہے جنھیں ٹی 20 کے سپیشلسٹ کرکٹرز نہ ہونے کے باوجود آئی پی ایل میں آئیکون کرکٹرز بنایا گیا تھا۔

اسی طرح بنگلہ دیش میں کھیلی گئی حالیہ لیگ میں کرس گیل بنگلہ دیشی کھلاڑی محمود اللہ کی کپتانی میں کھیلے جبکہ عصر حاضر کے سب سے کامیاب بیٹسمین اے بی ڈی ویلیئرز آئی پی ایل میں وراٹ کوہلی کی کپتانی میں کھیل چکے ہیں۔

اسی بارے میں