اجمل، سنگاکارا متبادل کھلاڑیوں میں، یونس نظر انداز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعید اجمل کا بین الاقوامی کرئیر مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے

سری لنکا کے کمار سنگاکارا، تلکارتنے دلشن اور پاکستانی آف سپنر سعید اجمل کو پاکستان سپر لیگ کے اضافی زمرے میں شامل کر لیاگیا ہے البتہ یونس خان کے لیے کسی بھی ٹیم نے دلچسپی نہیں دکھائی۔

اضافی زمرے (سپلیمنٹری کیٹگری) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوا تو ٹیم اس زمرے میں اس کھلاڑی کو کھلا سکے گی۔

پاکستان سپر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب

’کراچی نے ٹیم نہیں بنائی، مذاق کیا ہے‘

سنگاکارا کی خدمات کوئٹہ کی ٹیم نے حاصل کی ہیں۔ تلکارتنے دلشن کراچی کی ٹیم میں آئے ہیں جبکہ سعید اجمل اسلام آباد کے سکواڈ کا حصہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ سنگاکارا اور تلکارتنے دلشن پاکستان سپر لیگ کی پلاٹینم کیٹگری میں شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پاکستان سپر لیگ میں کھیلنا نہیں چاہتے لیکن کوئی فرنچائز چاہے تو وہ کوچ یا کھلاڑیوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں

سنگاکارا اور مہیلا جے وردنے، نے ماسٹر چیمپیئنز لیگ سے بھی کھیلنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اسی لیے پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں نے انھیں ابتدائی مرحلے میں حاصل کرنے میں تیزی نہیں دکھائی۔

آف سپنر سعید اجمل کو پاکستان سپر لیگ کی ڈائمنڈ کیٹگری میں رکھا گیا تھا لیکن وہ اس زمرے میں کسی فرنچائز کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔

سعید اجمل کا بین الاقوامی کرئیر مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کے لیے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات بھی حاصل کی تھیں لیکن اس سے سعید اجمل کی کارکردگی میں تبدیلی نہیں آ سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واضح رہے کہ سنگاکارا اور تلکارتنے دلشن پاکستان سپر لیگ کی پلاٹینم کیٹگری میں شامل تھے

سعید اجمل کا ٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 85 وکٹوں کا ریکارڈ شاہد آفریدی نے حال ہی میں توڑا ہے۔

یونس خان کا نام پاکستان سپر لیگ کی پلاٹینم کیٹگری میں رکھا گیا تھا تاہم انھیں بھی کسی فرنچائز نے نہیں لیا۔

ممکن ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ چند روز قبل یونس خان نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان سپر لیگ میں کھیلنا نہیں چاہتے، لیکن گر کوئی فرنچائز چاہے تو وہ بطور کوچ حصہ لینے یا کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے سنہ 2009 میں یونس خان کی قیادت میں آئی سی سی ورلڈ ٹی20 جیتا تھا جس کے بعد یونس خان نے بین الاقوامی ٹی20 کو خیرباد کہہ دیا تھا البتہ وہ اب تک قومی سطح پر ہونے والے ٹی 20 مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں