محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزا ملے گا یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے یہ بات واضح کردی کہ ویزے کا معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اختیار میں نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کو اگرچہ قومی تربیتی کیمپ میں شامل کرکے آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کے دورے پر بھیجنے کا اشارہ دے دیا ہے لیکن اس راہ میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹ ویزے کا حصول ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے رہنمائی حاصل کررہا ہے کہ کیا محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزا مل سکتا ہے یا نہیں؟

’عامر بولنگ کرنا جانتا ہے‘

محمد عامر کی پاکستان سپر لیگ میں شمولیت

محمد عامر قومی تربیتی کیمپ میں شامل

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد عامر برطانوی عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور وہ جیل بھی کاٹ چکے ہیں لہذا جب بھی وہ کسی ملک کے ویزے کی درخواست دیں گے انھیں اپنی اس سزا کا ریکارڈ پیش کرنا ہوگا کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک ویزے کی درخواست کے وقت اگر کوئی سزا ہوئی ہو تو اس کا ریکارڈ طلب کرتے ہیں اور کئی ممالک سزا یافتہ کی ویزا درخواست سرے سے مسترد کردیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور محمد عامر کی خاتون وکیل اس سلسلے میں معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں۔

تفضل حیدر رضوی نے یہ بات واضح کردی کہ ویزے کا معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اختیار میں نہیں بلکہ اس کا اختیار اس ملک کے ہائی کمیشن کو ہوتا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کو قانونی معاونت فراہم کررہا ہے لیکن اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری محمد عامر اور ان کی وکیل پر عائد ہوتی ہے۔

تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ اس مرحلے پر کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ محمد عامر کو ویزا مل جائے گا یا مسترد ہوجائے گا کیونکہ ویزے کی درخواست انفرادی طور پر نمٹائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر نے حال ہی میں بنگلہ دیش میں سپر لیگ کھیلی ہے

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ گزشتہ سال محمد عامر کی ویزے کی درخواست مسترد کرچکی ہے۔

دوسری جانب محمد عامر کی تربیتی کیمپ میں شمولیت پر بعض کھلاڑیوں کے تحفظات کے بعد اب ایک سلیکٹر بھی خلاف ہوگئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ایک اہم کھلاڑی محمد حفیظ نے بنگلہ دیشی لیگ کے موقع پر کہا تھا کہ وہ محمد عامر کو اپنے ساتھ ایک ہی ٹیم میں دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوچ وقاریونس کو ذمہ داری سونپی ہے جو اگلے چند روز میں کھلاڑیوں سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ شروع سے ہی محمد عامر کے لیے نرم گوشہ رکھے ہوئے ہے اسی لیے اس نے ان کی پانچ سالہ پابندی ختم ہونے سے پہلے ان کی کرکٹ شروع کرانے کےلیے آئی سی سی سے درخواست کی تھی ۔

آئی سی سی کے کرپشن سے متعلق ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کے نتیجے میں محمد عامر کو پابندی کی مدت ختم ہونے سے کچھ وقت پہلے ہی اپنی کرکٹ شروع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔

اسی بارے میں