پیٹن میننِگ کی ممنوع دوا کے استعمال کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیٹن میننِگ امریکن فٹبال لیگ کے عظیم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں

امریکن فٹبال کے عظیم کھلاڑی پیٹن میننِگ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ سنہ 2011 میں گردن کے آپریشن کے بعد ’ہیومن گروتھ ہارمونز‘ سے ان کا علاج کیا گیا تھا۔

پیٹن میننِگ کے متعلق یہ دعویٰ قطر کے ٹی وی نیوز چینل الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا جیسے اتوار کو نشر کیا جا رہا ہے۔

ڈوپنگ سکینڈل، سپین میں عدالتی کارروائی

’تمغہ جیتنے والے ایک تہائی کھلاڑیوں کے خون کے نمونے مشتبہ‘

یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھلاڑی کو یہ منوع دوا انڈیاناپولس کلینک کی جانب سے دی گئی تھی۔

ڈینور براکنس ٹیم کے لیے کواٹر بیک پوزیشن پر کھیلنے والے میننگ نے اس الزام کے بارے میں کہا ہے کہ ’ یہ الزام سراسر بکواس ہے، ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

کھلاڑی کا اس بارے میں مزید کہنا ہے کہ ’ مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ کوئی اس طرح کی چیز نشر کرے گا، جس نے بھی یہ کہا ہے وہ جھوٹ گھڑ رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ پیٹن میننِگ امریکن فٹبال لیگ کے عظیم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں اور انھیں پانچ بار لیگ کے سب اہم کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

سنہ 2011 کے سیزن میں پیٹن میننِگ گردن کی چوٹ کے باعث حصہ نہیں لے سکے تھے۔ انھوں نے 2012 میں برانکس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

میننِگ پاؤں کی چوٹ کے باعث فی الحال کھیل میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں