اظہر علی ٹیم کی قیادت چھوڑنے کو تیار مگر استعفیٰ نامنظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ حالات میں ٹیم کی قیادت نہیں کر سکتے

پاکستان کی ایک روزہ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے سپاٹ فکسنگ میں سزایافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کی کیمپ میں شمولیت کے معاملے پر ٹیم کی قیادت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔

اظہر علی نے منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کی جس میں انھوں نے کپتانی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

’مسئلہ ختم ہوگیا‘، اظہر اور حفیظ کی کیمپ میں واپسی

اظہر علی کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ حالات میں ٹیم کی قیادت نہیں کر سکتے لیکن شہریار خان نے ان پر واضح کر دیا کہ انھیں ٹیم کی قیادت ان کی صلاحیت کی بنا پر دی گئی ہے لہٰذا وہ اسے جاری رکھیں، جس پر اظہر علی نے کپتانی جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

اظہر علی اور محمد حفیظ نے محمد عامر کی قومی کیمپ میں موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے ابتدا میں کیمپ میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا لیکن شہریار خان سے ملاقات کے بعد یہ دونوں کرکٹر دو روز بعد کیمپ میں شامل ہونے پر تیار ہوگئے تھے۔

تاہم دونوں کا کہنا تھا کہ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی کھلاڑی کے بارے میں ان کا سخت موقف برقرار ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر یا کسی بھی دوسرے کھلاڑی کی مستقبل میں مخالفت کا راستہ روکنے کے لیے قومی کیمپ میں موجود تمام کھلاڑیوں سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیے ہیں۔

اظہر علی نے اسی سال مصباح الحق کی جگہ ون ڈے ٹیم کی کپتانی سنبھالی ہے اور ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلی ہی سیریز کے تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم اس کے بعد ٹیم نے زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتیں لیکن انگلینڈ کے خلاف اسے تین ایک سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اظہرعلی نے 17 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی ہے جن میں سے سات میں فتح اور نو میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ایک میچ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔

اسی بارے میں