یونس کے ریکارڈ اور عامر کی واپسی کا سال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان نے بنگلہ دیش، سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتیں

سنہ 2015 پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے ملا جلا رہا، اس سال پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی بہت اچھی رہی۔ اس نے آٹھ میں سے پانچ ٹیسٹ جیتے اور صرف ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان نے بنگلہ دیش، سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتیں۔

اظہر علی ٹیم کی قیادت چھوڑنے کو تیار مگر استعفیٰ نامنظور

’مسئلہ ختم ہوگیا، حفیظ اور اظہر کی کیمپ میں واپسی‘

اظہر علی اور حفیظ ہفتے تک فیصلہ کر لیں: شہر یار خان

عامر کی موجودگی پر اظہر اور حفیظ کا بائیکاٹ

پاکستان کی جیت کا تناسب 50. 62 فیصد رہا جواس سال کسی بھی ٹیم کی سب سے بہترین کارکردگی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 8,832 رنز کا جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑ دیا

یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے جاوید میانداد کا سب سے زیادہ 8,832 رنز کا ریکارڈ توڑ دیا جبکہ شعیب ملک نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کے برعکس ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل سے آگے نہ بڑھ سکی۔

ورلڈ کپ ختم ہوا تو مصباح الحق اور شاہد آفریدی کے ون ڈے کریئر بھی اختتام کو پہنچے اور ٹیم کی قیادت اظہر علی کو سونپ دی گئی جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلی ہی سیریز میں تین صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ورلڈ کپ ختم ہوا تو مصباح الحق اور شاہد آفریدی کے ون ڈے کریئر بھی اختتام کو پہنچے

پاکستان نے زمبابوے اور سری لنکا کو شکست دی لیکن انگلینڈ کے خلاف اہم سیریز میں اس کی کارکردگی بہت خراب رہی اور اسے تین ایک سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان نے اس سال 12 ون ڈے جیتے اور 14 ہارے۔ پاکستان سے زیادہ ون ڈے ہارنے والی ٹیم صرف زمبابوے کی رہی جس نے 23 ون ڈے ہارے۔

یونس خان نے انگلینڈ کے خلاف ایک ون ڈے کھیل کر اس فارمیٹ کو خیر باد کہہ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپس آئے

سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپس آئے۔

عامر کی واپسی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ون ڈے کپتان اظہر علی نے قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یارخان کے کہنے پر استعفیٰ واپس لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی اور محمد حفیظ نے محمد عامر کی کیمپ میں موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کیمپ کا بائیکاٹ کیا

اظہر علی اور محمد حفیظ نے محمد عامر کی کیمپ میں موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کیمپ کا بائیکاٹ بھی کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والی سیریز کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا لیکن یہ سیریز بھارتی کرکٹ بورڈ کے ٹال مٹول کی نذر ہوگئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ ہاں کے انتظار میں ناں کو بھی ترس گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لیگ سپنر یاسر شاہ کو مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب معطلی کا سامنا ہے

سنہ 2015 کے جاتے جاتے پاکستانی کرکٹ کو ایک اور تلخی دے گیا جب پورے سال ٹیسٹ میچوں میں 49 وکٹیں حاصل کرنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ کو مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب ممکنہ طویل معطلی کا سامنا ہے۔

اس سال پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عظمت رانا اور سابق منیجر یاور سعید بھی انتقال کر گئے۔

اسی بارے میں