ٹیسٹ کی اصل خوبصورتی سفید لباس اور سرخ گیند: حفیظ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے زبردست مداح ہیں جو سفید لباس اور سرخ گیند کے ساتھ کھیلی جاتی ہے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ ڈے نائٹ ٹیسٹ اور گلابی گیند کے تجربے کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی اصل خوبصورتی سفید لباس اور سرخ گیند میں ہے۔

محمد حفیظ ان دنوں قائد اعظم ٹرافی کا ڈے نائٹ فائنل کھیل رہے ہیں جس میں پہلی بار گلابی گیند استعمال ہو رہی ہے۔

دن رات کا ٹیسٹ اورگیند گلابی

یاد رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ میں شائقین کی دلچسپی میں اضافے کے لیے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کا تجربہ کر رہی ہے اور گذشتہ دنوں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ گلابی گیند سے کھیلا گیا تھا اور اس سال پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی آسٹریلیا کے دورے میں ایک ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ گلابی گیند سے کھیلے گی۔

محمد حفیظ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ’وہ ہمیشہ سے قدرتی حسن کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے زبردست مداح ہیں جو سفید لباس اور سرخ گیند کے ساتھ کھیلی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخ کے پہلے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں گلابی گیند کا استعمال کیا گیا

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں اس طرح کے تجربات نہیں کرنے چاہئیں اور اسے اس کے اصل حسن کے ساتھ ہی کھیلا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ کمرشل دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن جو بھی تجربات ہوں وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ہوں تو اچھا ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کو نہ چھیڑا جائے۔

محمد حفیظ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ اور گلابی گیند سے شائقین زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کی طرف متوجہ ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے اتارچڑھاؤ کا اپنا مزا ہے۔ اس کی روایتی خوبصورتی کی ایک مثال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا دبئی ٹیسٹ ہے جس میں آخر وقت تک کسی کو نہیں پتہ تھا کہ کون جیتے گا لہٰذا ٹیسٹ کرکٹ کو موجودہ شکل میں ہی جاری رکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں