’کرکٹ میں سٹے بازی کو جائز قرار دیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption جسٹس لوڈھا کی قیادت میں کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی

بھارت میں کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قائم کی جانے والی جسٹس لوڈھا کمیٹی نے پیر کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپ دی ہے۔

کمیٹی نے اس رپورٹ میں بی سی سی آئی میں تبدیلی کے لیے بعض اہم تجاویز پیش کی ہیں۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ کرکٹ میں سٹے بازی کو جائز قرار دیا جانا چاہیے اور سرکاری افسروں اور وزراء کو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات پر ایک نظر:

1: بی سی سی آئی کو حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کے دائرے میں لایا جائے۔

2: کرکٹ کو کرکٹر ہی چلائیں اور بی سی سی آئی کی خود مختاری قائم رہے۔

3: ایک ریاست میں صرف ایک ہی کرکٹ ایسوسی ایشن ہو اور سب کو ووٹ دینے کا حق ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کرکٹ کو کرکٹروں کے ہاتھوں میں ہی رہنے دینے کی سفارش کی گئی ہے

4: کسی بھی بی سی سی آئی عہدیدار کو مسلسل دو سے زیادہ مدت تک ایک عہدے پر نہیں رہنے دیا جائے۔

5: اس کے علاوہ کسی بھی شخص کو تین سے زیادہ مدت کے لیے عہدیدار نہ رہنے دیا جائے۔

6: بی سی سی آئی میں ایک شخص، ایک عہدے کا اصول اپنایا جائے۔

7: ایک سٹیئرنگ کمیٹی ہو جس کی صدارت سابق کرکٹر مہندر سنگھ امرناتھ، ڈیانا اڈلجي اور انل کمبلے کے ساتھ سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی کریں۔

8: کھلاڑیوں کی ایک یونین اور ان کے لیے ایک آئین بنایا جائے۔

9: آئی پی ایل اور بی سی سی آئی کی مختلف اور علیحدہ گورننگ کونسل ہو۔

10: آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کو محدود خود مختاری ہی دی جائے۔

اسی بارے میں