آسٹریلیا کا ٹیم بھیجنے سے انکار کسی طور پر درست نہیں، شہریار خان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہریارخان نے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر آئی سی سی کے ایونٹ سے دستبرداری اختیار کرلینا تشویش ناک بات ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا بنگلہ دیش میں انڈر 19 ورلڈ کپ میں کھیلنے سے انکار بڑے ملکوں کی چھوٹے ملکوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے سکیورٹی کے خدشات کے سبب اپنی انڈر 19 ٹیم بنگلہ دیش نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سکیورٹی خدشات، آسٹریلیا انڈر 19 ورلڈ کپ سے دستبردار

آسٹریلیا کا بنگلہ دیش کا دورہ غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

شہریارخان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آسٹریلیا کو خود اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے آئی سی سی کے سکیورٹی ماہرین سے بنگلہ دیش کی صورتحال کے بارے میں معلوم کرنا چاہیے تھا۔ عین وقت پر ٹیم بھیجنے سے انکار کسی طور پر درست نہیں اور اس پر آسٹریلیا پر جرمانہ ہونا چاہیے۔

شہریارخان نے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر آئی سی سی کے ایونٹ سے دستبرداری اختیار کرلینا تشویش ناک بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف ایک اطالوی شخص کی ہلاکت کو بنیاد بناکر آسٹریلیا نے گذشتہ اکتوبر میں اپنی ٹیم بنگلہ دیش بھیجنے سے انکار کردیا تھا حالانکہ سڈنی میں بھی روزانہ ٹریفک کے حادثات میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Cricket Australia
Image caption آسٹریلیا نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے رواں ماہ بنگلہ دیش میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے

شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش میں کھیلنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ پاکستانی ٹیم جب گذشتہ سال بنگلہ دیش گئی تھی تو وہاں کے شائقین نے پاکستانی ٹیم کا خیرمقدم کیا تھا۔

شہریارخان نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ پٹھان کوٹ کا واقعہ پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی میں رکاوٹ نہیں بنے گا حالانکہ سشما سوراج اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ پاکستان سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ شروع نہیں ہوسکی لیکن امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل شروع ہونے سے کرکٹ پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

شہریارخان نے اپنی اس بات کو دوہراتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ نہیں بلکہ پاکستانی حکومت کرے گی۔

اسی بارے میں