محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزا مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ے نیوزی لینڈ کے امیگریشن حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ عامر کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ آنے کی اجازت دے دی گئی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ کے جرم میں قید اور پانچ برس کی پابندی کا سامنا کرنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی سلیکٹرز نے 23 سالہ فاسٹ بولر کو ویزا ملنے کی شرط پر ہی دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے ون ڈے اور ٹی 20 سکواڈ میں شامل کیا تھا۔

’عامر کے لیے میرے دل میں ہمیشہ سے جگہ رہی ہے‘

محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزہ ملے گا یا نہیں؟

’محمد عامر دوسرے چانس کے مستحق ہیں‘

پی سی بی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ویزا لگنے کے بعد عامر کا پاسپورٹ دبئی آ چکا ہے

محمد عامر کو آسٹریلیا کا ٹرانزٹ ویزا بھی جاری کردیا گیا ہے اور وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ دس جنوری کو نیوزی لینڈ روانہ ہونگے۔اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے نیوزی لینڈ کے امیگریشن حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ عامر کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق امیگریشن نیوزی لینڈ کے ایریا مینیجر مائیکل کارلے نے ایک بیان میں کہا کہ ’محمد عامر کو ویزا دینے کی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ وہ رواں ماہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ نیوزی لینڈ کا دورہ کر سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر پر سنہ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کا جرم ثابت ہوا تھا

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ فیصلہ کرتے ہوئے کئی عوامل کو مدِنظر رکھا گیا جن میں پاکستانی اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی حمایت اور عامر کا سزا کاٹنا بھی شامل ہیں۔‘

مائیکل کارلے کا کہنا تھا کہ تمام حالات اور ان کے نیوزی لینڈ آمد کے مقصد کو سمجھتے ہوئے محمد عامر کی ویزے کی درخواست منظور کی گئی ہے۔

محمد عامر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے لاہور میں لگائے گئے تربیتی کیمپ میں شریک رہے ہیں۔

اس کیمپ میں ان کی شرکت پر پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی اور سینیئر کھلاڑی محمد حفیظ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کیمپ میں شمولیت سے انکار بھی کیا تھا۔

اظہر علی نے تو اس معاملے پر کپتانی سے استعفی بھی دیا تاہم دونوں کھلاڑی پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کے بعد اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں اور ٹیم کا حصہ ہیں۔

عامر نے آئی سی سی کی طرف سے ان پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ اور بنگلہ دیشی پریمیئر لیگ میں حصہ لیا تھا جہاں انھوں نے انتہائی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان کی اس کارکردگی کی وجہ سے ہی انھیں پاکستانی سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کو 15 جنوری سے شروع ہونے والے نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران تین ایک روزہ اور تین ٹی 20 میچ کھیلنا ہیں۔

اسی بارے میں