پلاٹینی فیفا کے صدارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہ میشل پلاٹینی پر ضابطہ اخلاق سے متعلق تحقیقات کے بعد آٹھ سال کی پابندی عائد ہے

یورپی فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) کے معطل شدہ صدر مشل پلاٹینی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ماہ فیفا کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر اور یوئیفا کے سربراہ میشل پلاٹینی پر ضابطہ اخلاق سے متعلق تحقیقات کے بعد آٹھ سال کی پابندی عائد ہے۔

یہ دونوں افراد فٹبال سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

بلیٹر اور پلاٹینی پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 میں غیر قانونی طور پر رقم لے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔

وہ اپنے اوپر عائد پابندی کے خلاف اپیل دائر کر رہے ہیں تاہم پلاٹینی کا کہنا ہے کہ 26 فروری کو منعقد ہونے والے انتخاب کا مطلب ہے کہ وہ اس میں حصہ نہیں لے سکتے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فرانس سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ پلاٹینی کا کہنا ہے کہ ’میں فیفا کی صدارت کی دوڑ سے باہر ہو رہا ہوں۔‘

’یہ وقت میرے لیے اچھا نہیں ہے۔ میں دیگر امیدواروں سے برابری کی سطح پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘

’مجھے کھیل کھیلنے کے لیے موقع نہیں دیا گیا۔ الوداع فیفا، الوداع فیفا کی صدارت۔‘

پلاٹینی یورپ کی فٹبال تنظیم کی گورننگ باڈی میں 2007 سے رکن تھے اور انھوں نے فیفا کے صدارت کے لیے نامزدگی جمع کروائی ہوئی تھی تاہم وہ اپنی معطلی کے دوران اس میں حصہ نہیں لے سکتے۔

اسی بارے میں