’ریکارڈز بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حنیف محمد نے 499 رنز کی اننگز کھیل کر سرڈان بریڈ مین کا 452 رنز کا 29 سالہ پرانا ریکارڈ توڑا تھا

آج سے ٹھیک 57 سال پہلے 11 جنوری سنہ 1959 کو لٹل ماسٹر حنیف محمد نے قائداعظم ٹرافی میں کراچی کی طرف سے کھیلتے ہوئے بہاولپور کے خلاف کراچی کے پارسی انسٹیٹیوٹ گراؤنڈ میں499 رنز کی اننگز کھیلی تھی جو ایک طویل عرصے تک فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی اننگز کے طور پر ریکارڈ کے طور پر درج رہی۔

حنیف محمد کا یہ ریکارڈ 35 سال تک قائم رہنے کے بعد بالآخر ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے توڑا جب انھوں نے جون سنہ 1994 میں کاؤنٹی کرکٹ میں وارکشائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے ڈرہم کے خلاف 501 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

کرکٹ میں سنچری بنانے والی تین نسلیں

نذر محمد سے یونس خان تک

حنیف محمد کے ذہن میں499 رنز کی تاریخی اننگز اسی طرح تازہ ہے جیسے کل ہی کی بات ہو اور جب انھیں کوئی اس اننگز کی یاد دلاتا ہے تو وہ ماضی میں کھو جاتے ہیں۔

حنیف محمد نے 499 رنز کی اننگز کھیل کر عظیم بلےباز سر ڈان بریڈ مین کا 452 رنز کا 29 سالہ پرانا ریکارڈ توڑا تھا۔ جب انھوں نے یہ ریکارڈ اپنے نام کیا تو سر ڈان بریڈ مین نے انھیں مبارک باد کا ٹیلی گرام بھیجا تھا لیکن جب حنیف محمد یہ اننگز کھیل رہے تھے تو انھیں اس وقت نہیں معلوم تھا کہ یہ عالمی ریکارڈ کس کا ہے۔

’جب میں نے ٹرپل سنچری مکمل کی تو میرے بڑے بھائی وزیرمحمد نے، جو کراچی کی ٹیم کے کپتان بھی تھے، مجھ سے کہا کہ اب آپ نے ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا ہے۔ میں نے ریکارڈ کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے سرڈان بریڈ مین کے452 رنز کے ریکارڈ کے بارے میں مجھے بتایا جس پر میں نے ان سے کہا کہ ابھی تو یہ ریکارڈ بہت دور ہے، لیکن وزیر بھائی بولے کچھ بھی ہو آپ نے اس ریکارڈ کے لیے پوری کوشش کرنی ہے۔‘

حنیف محمد نے سرڈان بریڈ مین کا ریکارڈ تو توڑ دیا لیکن وہ سکورنگ میں غلطی کی وجہ سے اننگز میں نصف ہزار رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین بننے سے رہ گئے۔

Image caption حنیف محمد نے سرڈان بریڈ مین کا ریکارڈ تو توڑ دیا لیکن وہ سکورنگ میں غلطی کی وجہ سے اننگز میں نصف ہزار رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین بننے سے رہ گئے

’سکور بورڈ پر رنز کے کارڈز بچے لگایا کرتے تھے۔ وہ وقت پر میرے رنز کے صحیح ہندسے بورڈ پر نہیں لگا سکے۔انھوں نے جب 496 رنز بورڈ پر لگائے تو اس وقت دو گیندیں باقی تھیں۔ پانچویں گیند پر میں نے شاٹ کھیلا۔ فیلڈر سے غلطی ہوئی تو میں دو رنز لینے کے خیال سے دوڑا تاکہ آخری گیند بھی میں کھیل سکوں لیکن دوسرے رن کی کوشش کے دوران میں رن آؤٹ ہوگیا۔ جب میں واپس آ رہا تھا تو سکور بورڈ پر499 رنز کے ہندسے لگائے گئے جس پر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اگر پہلے صحیح رنز بورڈ پر لگے ہوتے تو میں500 رنز کے لیے آخری گیند پر بھی چانس لے سکتا تھا۔‘

حنیف محمد ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 337 رنز کی اننگز سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔

’میں نے ویسٹ انڈیز کے تیز بولنگ اٹیک کے خلاف اسی میدان میں 337 رنز سکور کیے تھے اسی لیے میرے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پہلی اننگز میں صرف 106 رنز پر ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد ہم نے جس طرح دوسری اننگز میں مقابلہ کیا اور میں ساڑھے تین دن تک وکٹ پر کھڑا رہا اور چار بیٹسمینوں کے ساتھ سنچری پارٹنرشپس قائم کیں۔ یہ بڑی بات تھی کہ ہم وہ ٹیسٹ میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو کسی طرح جیت سے کم نہ تھا۔‘

حنیف محمد کو اس بات کا قطعاً دکھ نہیں ہے کہ ان کے 499 رنز کا ریکارڈ برائن لارا نے توڑا کیونکہ بقول ان کے ریکارڈز بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں۔

اسی بارے میں