عامر کی واپسی، پاکستان بھی جیت گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سپاٹ فکسنگ کی پاداش میں پانچ سال تک انٹرنیشنل کرکٹ سے دور رہنے والے فاسٹ بولر محمد عامر کی بالآخر واپسی ہوگئی۔

اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی جیت گئی۔

آکلینڈ میں پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 16 رنز کی جیت کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم اس دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی جو انگلینڈ کے خلاف تینوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہارنے سے اس پر قائم تھا۔

شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 16 واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جیت کر جیت اور ہار کا حساب بھی برابر کردیا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم دھاں دار بیٹنگ کے ذریعے حریف بولرز پر برسنے والے بیٹسمینوں کی وجہ سے 172 رنز کا ہدف عبور کرنے کے لیے فیورٹ سمجھی جارہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ ایڈن پارک کی چھوٹی باؤنڈری دیکھ کر بھی میزبان بیٹسمینوں کے منہ میں پانی آرہا تھا۔

مارٹن گپٹل کے رن آؤٹ ہونے کے بعد ولیم سن اور کالن منرو نے80 رنز کی عمدہ شراکت بھی قائم کی لیکن پاکستانی بولرز ایک کے بعد ایک توپ کو خاموش کرتے چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر شاہد آفریدی محمد عامر کی گیند پر کور پوزیشن پر کین ولیم سن کا پانچ رنز پر کیچ لے لیتے تو نیوزی لینڈ کی رہی سہی امیدیں اسی وقت دم توڑ جاتیں۔

ستم بالائے ستم اس میچ کے سب سے ناکام کرکٹر صہیب مقصود نے محمد عامر کے دوسرے سپیل کے پہلے ہی اوور میں ٹوڈ ایسٹل کا صفر پر آسان کیچ گرا دیا۔

صہیب مقصود پاکستانی اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے تھے۔

سری لنکا کے خلاف صرف چودہ گیندوں پر نصف سنچری بنانے والے منرو نے اس بار پچیس گیندوں پر نصف سنچری بنائی جس میں چھ چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔

پاکستانی بولرز نے صرف 19 رنز کے اضافے پر پانچ وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا۔ اس مرحلے پر کپتان ولیم سن ہی میزبان ٹیم کی آخری امید تھے لیکن ان کی 70 رنز کی اننگز میچ کو آخری اوور تک تو لے آئی لیکن اپنی ٹیم کو جتوانے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

محمد عامر نے چار اوورز میں اکتیس رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انہوں نے کسی نوبال کے بغیر بولنگ کی البتہ ان کی دو گیندیں وائیڈ تھیں۔ اتفاق سے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پر ان کی پہلی ہی گیند وائیڈ تھی۔

شاہد آفریدی ایک رن آؤٹ تین کیچز اور دو وکٹیں لے کر مرکز نگاہ تھے۔

فٹ ہونے کے بعد سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے والے عمرگل نے واپسی کے پہلے میچ میں دو وکٹیں حاصل کیں تاہم سب سے کامیاب بولر وہاب ریاض تھے جنہوں نے تین وکٹوں پرہاتھ صاف کیا۔

اس سے قبل پاکستان نے 8 وکٹیں گنواکر 171 رنز بنائے۔

محمد حفیظ نے نئے سال کی ابتدا 61 رنز کی عمدہ اننگز سے کی۔

شاہد آفریدی نے صرف آٹھ گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے۔

ایک میچ کی معطلی کی سزا کو ایک جانب رکھواکر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو یہ میچ کھلادیا جو24رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

پاکستانی ٹیم نے آخری پانچ اوورز میں بارہ رنز کی اوسط سے ساٹھ رنز بنائے اس کوشش میں اس کی چار وکٹیں گریں۔

اسی بارے میں