ٹی ٹوئنٹی: پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی شکست

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی کی اپنی کارکردگی بلکہ کپتان کی حیثیت سے بھی ان کی پرفارمنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے

بولرز سے رنز نہ رکنے اور بیٹسمینوں سے رنز نہ بننے کی کہانی پاکستانی ٹیم نے پھر دوہرا دی۔ نتیجہ 95 رنز کی شکست کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔

یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی سب سے بڑی شکست ہے۔

اس سے قبل آسٹریلیا نے اسے 2012 ء میں 94 رنز سے شکست دی تھی۔

پاکستان نیوزی لینڈ میچ تصویروں میں

ویلنگٹن کا ٹی 20 اور سیریز دونوں نیوزی لینڈ کے نام

اور یہ بات بھی بھولنے والی نہیں ہے کہ صرف ایک میچ پہلے ہی پاکستان کو 10 وکٹوں کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیوزی لینڈ نے یہ میچ جیت کر تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز پر بھی دو ایک کی مہرتصدیق ثبت کر دی۔

پاکستان نے دو تبدیلیوں کے ساتھ یہ میچ کھیلتے ہوئے ٹاس جیت کر ہدف کے تعاقب کو ترجیح دی لیکن رنز کی بہتی گنگا میں نیوزی لینڈ نے پانچ وکٹوں پر 197 رنز بنا ڈالے جو سری لنکا کے 211 اور آسٹریلیا کے 197 کے بعد کسی بھی ٹیم کا پاکستان کے خلاف تیسرا بڑا اسکور ہے۔

پاکستانی ٹیم اپنے تجربہ کار بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے نتیجے میں اس بڑے سکور تلے دب گئی اور سترہویں اوور میں صرف 101 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

گزشتہ میچ میں ٹی ٹوئنٹی کی عالمی شراکت قائم کرنے والے مارٹن گپٹل اور کین ولیم سن نے اس بار صرف چھ اوورز میں نصف سنچری کی شراکت بنا کر نیوزی لینڈ کو بڑے سکور کا پلیٹ فارم مہیا کر دیا۔

عمرگل کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے انور علی کے میچ کے پہلے ہی اوور میں بننے والے سولہ رنز سے میزبان ٹیم کے خطرناک ارادے ظاہر ہو چکے تھے جس کے بعد جو بھی بولر آیا وہ تختۂ مشق بن گیا۔

کورے اینڈرسن جن کی وجۂ شہرت شاہد آفریدی کی تیز ترین سنچری کے عالمی ریکارڈ کو اپنے نام کرنا ہے وہ کسی بھی بولر کے قابو میں نہ آئے ان کے ناقابل شکست 82 رنز میں جو صرف بیالیس گیندوں پر بنے چار چھکے اورچھ چوکے شامل تھے۔

صرف چند فرسٹ کلاس میچز اور بنگلہ دیشی لیگ کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیے گئے محمد عامر کی واپسی نے یہ ثابت کردیا کہ انھیں انٹرنیشنل کرکٹ کے دھارے میں صحیح طریقے سے شامل ہونے کے لیے جس ردھم کی ضرورت ہے وہ جلد بازی کے بجائے مزید ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے آئے گا۔

ان کی واپسی کے بارے میں چیف سلیکٹر ہارون رشید اور ہیڈ کوچ وقاریونس کے بلند بانگ دعوے غلط ثابت ہوگئے۔

انور علی، وہاب ریاض اور عماد وسیم نے بھی بہت بری بولنگ کی جو ان کے اعدادوشمار سے جھلک رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر کو بھی ابھی اعتماد حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے

بولرز کی بگڑی اس بار بیٹسمین بھی نہ بنا سکے اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ رنز کی رفتار سے زیادہ تیز رہا۔

بڑے ناموں والے محمد حفیظ، احمد شہزاد، شعیب ملک اور عمراکمل کی انتہائی مایوس کن بیٹنگ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بارے میں بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

احمد شہزاد پر کپتان کا اندھا اعتماد ٹیم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

عمراکمل اپنے ہر تنازع کو میڈیا کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میدان میں ان کی غیرمستقل مزاج کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

شاہد آفریدی کی اپنی کارکردگی بلکہ کپتان کی حیثیت سے بھی ان کی پرفارمنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

پاکستانی ٹیم ان کی قیادت میں ابتک 18 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہار چکی ہے جو مہندر سنگھ دھونی کی23 ناکامیوں کے بعد کسی بھی کپتان کی دوسری سب سے بڑی ناکامیاں ہیں۔

اسی بارے میں