مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاسکے، وقاریونس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس کا ٹیم کی مستقل ناکامیوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف دونوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز جیتے جاسکتے تھے لیکن ملنے والے مواقع ضائع کرنے کے سبب دونوں میچوں میں شکست ہوئی۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم وقاریونس کی کوچ کی حیثیت سے موجودگی میں دس میں سے سات ون ڈے سیریز ہار چکی ہے جس کی وجہ سے وہ زبردست تنقید کی زد میں ہیں۔

وقاریونس نے آکلینڈ سے دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بولنگ اور فیلڈنگ میں کمزوریاں سامنےآئی ہیں۔دونوں میچز میں کیچز ڈراپ کیے گئے جن کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ فٹنس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔انھوں نے اور فیلڈنگ کوچ گرانٹ لوڈن نے کھلاڑیوں کو فٹنس پروگرام بناکر دیا ہے تاکہ وہ پاکستان سپر لیگ کے دوران بھی اس پر عمل کریں اور ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک مکمل طور پر فٹ رہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ اس سیریز کی مثبت بات بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ تھی جنہوں نے دونوں ون ڈے انٹرنیشنل میں بڑے اعتماد سے بیٹنگ کی جو آنے والے ایونٹس کو دیکھتے ہوئے خوش آئند بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آخری ایک روزہ میچ میں محمد عامر کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی

وقاریونس کا کہنا ہے کہ وہ فاسٹ بولر محمد عامر کی بولنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔انھوں نے نیوزی لینڈ کے دورے سے پہلے بھی یہ کہا تھا کہ وہ محمد عامر سے کوئی اتنی بڑی کارکردگی کی توقع نہیں رکھ رہے جس سے ان پر بہت زیادہ دباؤ پڑے اور اس دورے میں یہی کوشش کی گئی کہ ان پر بہت زیادہ دباؤ نہ رہے ۔

محمد عامر نے دیگر تمام بولرز کے مقابلے میں سب سے اچھی بولنگ کی اور امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

وقاریونس کو توقع ہے کہ پاکستان سپر لیگ کھیلنے کے بعد تمام کھلاڑی ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اچھی طرح تیار ہونگے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر کی تعریف نیوزی لینڈ کے اوپنگ بلے باز گپٹل نے بھی کی

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیوزی لینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم سیریز نہیں جیت سکی لیکن نوجوان کھلاڑیوں کو ایشیا سے باہر ایک بڑی ٹیم کے خلاف کھیل کر اچھا تجربہ حاصل ہوا ہے اور ایک بڑے ٹورنامنٹ میں جانے سے پہلے ان کی جھجھک بڑی حد تک کم ہوگی۔

اسی بارے میں