متحدہ عرب امارات پاکستان سپر لیگ کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption اس لیگ کے دوران مجموعی طور پر 24 میچ دبئی اور شارجہ میں کھیلے جائیں گے

پاکستان کی پہلی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ جمعرات سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہو رہی ہے۔

لیگ کا افتتاحی میچ اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان دبئی میں کھیلا جائے گا۔

مصباح الحق اسلام آباد اور سرفرازاحمد کوئٹہ کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے نام سے ہونے والے اس ایونٹ میں پانچ ٹیمیں شریک ہیں جن میں کراچی کنگز، لاہور قلندر، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز شامل ہیں۔

لاہور قلندر نے پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی کو اپنا کپتان مقرر کیا ہے۔ کراچی کنگز کی کپتانی شعیب ملک کے سپرد ہے جبکہ پشاور زلمی قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کی قیادت میں میدان میں اترے گی۔

اس لیگ کے دوران مجموعی طور پر 24 میچ دبئی اور شارجہ میں کھیلے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی وسیم اکرم کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں

پاکستان سپر لیگ میں پاکستانی کرکٹرز کے علاوہ 30 غیر ملکی کرکٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں انگلینڈ کے کیون پیٹرسن، آسٹریلیا کے شین واٹسن اور شان ٹیٹ، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل، لینڈل سمنز، ڈوین براوو اور ڈیرن سیمی، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، مشفق الرحیم اور تمیم اقبال، زمبابوے کے ایلٹن چگمبورا اور افغانستان کے محمد نبی قابلِ ذکر ہیں۔

سری لنکا کے کمار سنگاکارا اور تلکارتنے دلشن سپلیمنٹری کرکٹرز میں شامل ہیں۔ سنگاکارا ان دنوں ماسٹرز چیمپینز لیگ میں مصروف ہیں۔

ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر اپنے کرکٹ بورڈ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے سبب پاکستان سپر لیگ میں حصہ نہیں لے سکتے اور ان کی جگہ سری لنکا کے تشارا پریرا کوئٹہ کی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

یاسر شاہ کی ڈوپنگ کے نتیجے میں معطلی کے بعد لاہور قلندر نے سری لنکا کے اجانتھا مینڈس کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمن بھی کندھے کی تکلیف کے سبب ایونٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل ان کے بارے میں بھی یہ خبریں آئی تھیں کہ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ انھیں یہ لیگ کھیلنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے کھلاڑیوں کو مفید مشورے دینے کے لیے شہرۂ آفاق ویسٹ انڈین کرکٹر سر ویوین رچرڈز کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں

ماضی کے متعدد مشہور کرکٹرز پاکستان سپر لیگ میں کوچ کی حیثیت سے ذمہ داری نبھاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

ڈین جونز اسلام آباد کی ٹیم سے منسلک ہیں۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے سابق کوچ مکی آرتھر کراچی کنگز سے وابستہ ہیں۔ انگلینڈ کے اینڈی فلاور پشاور کی ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنے معین خان کو کوچ مقررکیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کے پیڈی آپٹن لاہور قلندر کے کوچ ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے کھلاڑیوں کو مفید مشورے دینے کے لیے شہرۂ آفاق ویسٹ انڈین کرکٹر سر ویوین رچرڈز کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی وسیم اکرم کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں