زیکا وائرس کے سبب کینیا کی ریو اولمپکس میں شرکت مشکوک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈیوڈ روڈیشا نے لندن اولمپکس میں 800 میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا

کینیا کی اولمپک کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر برازیل میں زیکا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی تو موسم گرما میں ہونے والے ریو اولمپکس میں کینیا کی شرکت مشکوک ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ جنوبی امریکی ممالک میں مچھر سے پیدا ہونے والے امراض کے نتیجے میں بچوں میں پیدائشی نقص دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ايچ او نے زیکا وائرس کو عالمی سطح پر صحت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

کینیا میں اولمپکس کے سربراہ کپچوگے کینو نے کہا: ’اگر زیکا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی تو ہم کینیا کے باشندوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘

ادھر برازیل کے حکام کا کہنا ہے کہ جب اگست کے مہینے میں ریو دی جنیرو میں اولمپک کھیل منعقد ہوں گے تو حاملہ خواتین کے علاوہ کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اولمپکس کے منتظمین کے ساتھ ’بہت قریبی رابطے میں ہیں جبکہ اولمپک منعقد کرنے والے مقامات کی اولمپکس سے قبل اور اس کے دوران روزانہ جانچ پڑتال ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زیکا وائرس سے بچوں کی پیدائش میں نقص پیدا ہو رہے ہیں

خیال رہے کہ گذشتہ سال عالمی ایتھلٹکس مقابلوں میں کینیا تمغے جیتنے والوں میں سرفہرست رہا تھا اور اولمپکس میں اس کی غیر موجودگی شدت کے ساتھ محسوس کی جائے گی کیونکہ کینیائی ایتھلیٹ درمیانی اور طویل فاصلوں کی دوڑ میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔

اس کے علاوہ سٹار ایتھلیٹ ڈیوڈ روڈیشا کو بھی 800 میٹر کی دوڑ میں اپنے اعزاز کے دفاع کا موقع بھی نہیں مل پائے گا۔

کینیا کے کھلاڑیوں نے سنہ 2012 کے لندن اولمپکس میں 11 تمغے حاصل کیے تھے جو سب کے سب ایتھلیٹکس میں تھے۔

اسی بارے میں