جنوبی افریقہ کرکٹ اور نسلی امتیاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 20 سالہ ربادا جنوبی افریقہ کے سب سے کم عمر بولر بن گئے ہیں جنھوں نے ایک ٹیسٹ میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں

جنوبی افریقہ اگرچہ انگلینڈ کے خلاف سیریز ہار گیا ہے لیکن اس سیریز سے دو کرکٹر ابھرے ہیں جو ملک میں کرکٹ کا مستقبل ہیں۔ ایک ہیں کگیسو ربادا اور دوسرے ہیں ٹیمبا بووما۔

زیادہ تر لوگ ان دونوں کھلاڑیوں کے سیاہ فام ہونے کو اہمیت نہیں دیتے لیکن ان کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ ایسے وقت میں جنوبی افریقہ کی جانب سے کھیل رہے ہیں جب ملک کی رگبی اور کرکٹ میں نسلی امتیاز کا حکومت بغور جائزہ لے رہی ہے۔

20 سالہ ربادا ایک ٹیسٹ میں دس وکٹیں حاصل کرنے والے جنوبی افریقہ کے سب سے کم عمر بولر بن گئے ہیں۔ انھوں نے ایک ٹیسٹ میں 144 رنز کے عوض 13 وکٹیں لیں۔ اس سے قبل مخایا نتینی نے 132 رنز کے عوض 13 وکٹیں حاصل کی تھی جو اب بھی قومی ریکارڈ ہے۔

وہ پہلا ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے لیکن وہ سیریز کے آخر میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بنے۔

25 سالہ ٹیمبا پہلے سیاہ فام بیٹسمین بن گئے ہیں جنھوں نے جنوبی افریقہ ہی میں سنچری سکور کی ہے۔ انھوں نے کیپ ٹاؤن میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 102 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ وہ سیریز میں تیسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی رہے۔

ان دونوں کھلاڑیوں کی یہ پرفارمنس صحیح وقت پر آئی ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ اس وقت تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی جیسے گریم سمتھ، آل راؤنڈر ژاک کیلس اور وکٹ کیپر مارک باؤچر کے ریٹائر ہونے کے ساتھ کرکٹ ٹیم کی ازسرِ نو تشکیل دی جا رہی ہے اور اسی کے ساتھ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیم میں سیاہ فام کھلاڑیوں کو بھی جگہ دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ذاتی طور پر میں جانتا ہوں کہ غیر سفید فام کھلاڑیوں کو ٹیم میں آ کر کتنی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے: ہاشم آملہ

بلیک کرکٹر اِن یونیٹی ایسے سیاہ فام کھلاڑیوں کا گروپ ہے جو کرکٹ ٹیم میں سیاہ فام کھلاڑیوں کی کم تعداد کے باعث مایوس ہیں۔ اس گروپ نے جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کو نومبر 2014 میں خط کے ذریعے نیشنل سکواڈ میں سیاہ فام کھلاڑیوں کے ساتھ تعصب کی شکایت کی اور دعویٰ کیا کہ سیاہ فام کھلاڑی زیادہ تر میدان میں پانی لانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

’سیاہ فام افریقی کھلاڑیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی صحیح سلیکشن چاہتے ہیں۔ اور جب وہ سلیکٹ ہو جائیں تو ان کو مساوی مواقعے دیے جائیں۔ سلیکٹروں اور کوچ کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔‘

اس خط سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ سیاہ فام کھلاڑی صرف علامتی طور پر نہیں بلکہ میرٹ پر اپنی سلیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور پورا موقع چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو منوا سکیں، نہ کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس میں ان کے ناکام ہونے کے امکانات زیادہ ہوں۔

جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے پچھلے سال پارلیمنٹ کو تبدیلی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم میں کم از کم چار سیاہ فام کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے پچھلے سال پارلیمنٹ کو تبدیلی سے آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹیم میں کم از کم چار سیاہ فام کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے

جنوبی افریقہ میں کھیلوں میں جب نسل کی بات کی جاتی ہے تو لازماً کوٹے کی بات آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب کھیل کے لیے سیاہ فام کھلاڑیوں کو بلایا جاتا ہے تو وہ میرٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ کوٹے کو پورا کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔

اور اسی وجہ سے جب ٹیم کو شکست ہوتی ہے تو سیاہ فام کھلاڑیوں کو باآسانی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیکن ربادا اور ٹیمبا کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

رباڈا 2014 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ یہ ورلڈ کپ جنوبی افریقہ نے جیتا تھا۔

دوسری جانب ٹیمبا فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز بنانے کے لیے مشہور ہیں۔

کیون پیٹرسن جو جنوبی افریقہ چھوڑ کر 2000 یں انگلینڈ چلے گئے تھے اکثر کوٹا سسٹم پر الزام لگاتے ہیں۔

انھوں نے ڈربن ٹیسٹ میں آسٹریلین اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ ٹیمبا کون ہے جو چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے آتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس بیٹنگ لائن اپ میں کیوں شامل ہے کیونکہ میں جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت سے عمدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھا ہے۔‘

جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہاشم آملہ نے ٹیمبا کی تعریف کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو اپنی جگہ بنانے میں درپیش مشکلات کی بات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 25 سالہ ٹیمبا پہلے سیاہ فام بیٹسمین بن گئے ہیں جنھوں نے جنوبی افریقہ ہی میں سنچری سکور کی ہے

’ذاتی طور پر میں جانتا ہوں کہ غیر سفید فام کھلاڑیوں کو ٹیم میں آنے کے بعد کتنی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم دونوں کے کریئر میں مشابہت ہے۔ جب ہم پہلی بار کھیلتے ہیں تو کسی کو بھی ہم پر اعتماد نہیں ہوتا۔ یہ یا تو ہمارے رنگ کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ کسی کو بھی آپ پر اعتماد نہیں ہوتا۔‘

نتینی کا کہنا ہے: ’میں نے جب جنوبی افریقہ کی جانب سے کھیلنا شروع کیا تو مجھے ان مشکلات کے بارے میں علم ہوا۔ یہ محض اپنا کریئر شروع کرنا نہیں تھا بلکہ دیگر سیاہ فام کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل بننا تھا۔‘

تاہم ربادا اور ٹیمبا کی ٹیم میں شمولیت ان لوگوں کے لیے انوکھی نہیں ہونی چاہیے جو جنوبی افریقہ کے سیاہ فام کھلاڑیوں کی کرکٹ کی تاریخ جانتے ہیں۔

کرکٹ سیاہ فام لوگوں کے لیے نیا کھیل نہیں ہے۔ سٹوری آف افریکن گیم میں آندرے اودندال نے لکھا ہے کہ 1850 اور 1860 میں ایسٹرن کیپ میں سیاہ فام مشنری سکولز میں پہلی بار کرکٹ کھیلی گئی تھی۔

1930 اور 1940 میں سیاہ فام کھلاڑی فرینک رورو سکور کرنے کے لیے مشہور تھے اور ان کو ’ڈسٹی بریڈمین‘ (Dusty Bradman) کا خطاب دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں