’کرکٹروں کو لاکھوں، باکسروں کو دو ہزار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان کو ہر میچ میں لاکھوں روپے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی باکسنگ ٹیم کو میچ فیس نہیں بلکہ 20 ڈالر یعنی دو ہزار روپے روزانہ کے حساب سے جیب خرچ دیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کو بین الاصوبائی امور کے وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا گیا ہے۔ جس کے مطابق اے کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کو فی ٹیسٹ میچ کے ساڑھے پانچ لاکھ روپے، ایک روزہ بین میچ کے تین لاکھ 63 ہزار روپے جبکہ ٹی 20 میچ کے پونے تین لاکھ روپے ملتے ہیں۔

بی کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کو فی ٹیسٹ میچ کے چار لاکھ 80 روپے، ایک روزہ میچ کے تین لاکھ، دو ہزار روپے جبکہ ٹی ٹونٹی کے دو لاکھ، 20,00 ہزار روپے ملتے ہیں۔

اسی طرسی کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کو فی ٹیسٹ میچ کے چار لاکھ 10 ہزار روپے، ایک روزہ میچ کے دو لاکھ 42 ہزار جبکہ ٹی 20 میچ میں شمولیت کے ایک لاکھ 65 ہزار روپے ملتے ہیں۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے لاکھوں روپے ملنے والی میچ فیس کے برعکس باکسنگ کے کھلاڑیوں کو کوئی میچ فیس نہیں دی جاتی۔

تحریری جواب کے مطابق ان کھلاڑیوں کو صرف اہم ایونٹ میں شمولیت پر 20 امریکی ڈالر یعنی دوہزار پاکستانی روپے روزانہ جیب خرچ دیا جاتا ہے جبکہ باقی ایونٹس میں کوئی پیسے نہیں دیے جاتے۔

جن اہم ایونٹس میں باکسنگ کے کھلاڑیوں کو جبیب خرچ دیا جاتا ہے اس میں اولمپکس گیمز، ایشیئن گیمز، جنوبی ایشائی کھیل اور دولتِ مشترکہ کے کھیل شامل ہیں۔

پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے جبکہ اس کھیل میں بھی کھلاڑیوں کو قابل ذکر میچ فیس ادا نہیں کی جاتی جس کا اُن کھلاڑیوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں