کیا آپ سپاٹ فکسر کے ساتھ کھیل سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ ہر کسی کو دوسرا موقع ضرور ملنا چاہیے؟ جہاں تک دوسرا موقع ملنے کی بات ہے تو اس حوالے سے کھیلوں کی دنیا بہت سخی ہے۔

جان ہگنز اپنے آپ پر بدعنوانی کے الزامات لگنے کے ایک سال بعد ورلڈ سنوکر چیپیئن بنے اور لوگوں نے ان کو بہت سراہا۔ گھوڑوں کی ریس کے جوکی لیسٹر نے فراڈ کے جرم میں تین سال قید کاٹنے کے بعد کامیاب واپسی کی۔

مانچسٹر سٹی کے کھلاڑی کارلوس تویز نے کلب کے پریمیئر لیگ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل وہ تین ماہ کی بغیر اجازت چھٹی پر ارجنٹینا میں تھے۔

کھیلوں کی دنیا میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ملیں گی۔

لیکن جو لوگ اس سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں ان کے لیے در گزر کرنا کتنا آسان ہے؟ جب بات سپاٹ فکسنگ کی ہوتی ہے تو کیا آپ اتنے سخی ہو سکتے ہیں کہ اس شخص کو معاف کر دیا جائے جس نے آپ کو اور آپ کی ٹیم کو دھوکہ دیا؟

بی بی سی سپورٹس نے ان کھلاڑیوں سے بات کی جو کھیلوں میں بدعنوانی سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور پوچھا کہ کیا وہ سپاٹ فکسر محمد عامر کی کرکٹ کی دنیا میں واپسی پر کیا کہتے ہیں۔

’میں کھیلنے سے انکار کر دوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انگلینڈ کے سابق آف سپنر گریم سوان 2010 میں لارڈز میں کھیلے جانے والے اس ٹیم کا حصہ تھے جس میں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ نے سپاٹ فکسنگ کی۔ سوان نے اس ٹیسٹ میں نو وکٹیں حاصل کیں اور سٹورٹ براڈ نے نے اپنی واحد ٹیسٹ سنچری سکور کی۔

’مجھے معلوم تھا کہ میں بہت اچھی بولنگ کر رہا تھا اور مجھے احساس تھا کہ میں اس کا حقدار ہوں۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ میں نے کتنی اچھی بولنگ کی لیکن اس پر ہمیشہ کے لیے دھبہ لگ گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’براڈ اس وقت حیرت میں پڑ گیا جب یہ بات سننے کو ملی کہ ہو سکتا ہے کہ اس ٹیسٹ کے ریکارڈ کو نہ مانا جائے۔ براڈ نے کہا کہ کیا وہ ہمارے ریکارڈ کو نہیں مانیں گے؟ لیکن شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔‘

سوان نے کہا ’مجھے خوشی ہوئی جب ان کو سزائیں ملیں۔ لیکن اب مجھے حیرت ہے کہ ان کو ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ یہ کہنا کہ ہر شخص کو دوسرا موقع دیا جانا چاہیے بالکل فضول بات ہے۔ کھیل میں آپ کو پورا احساس ہوتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں اور اسی لیے آپ کو دوسرا موقع نہیں ملنا چاہیے۔‘

’کچھ نوکریاں ایسی ہیں جہاں آپ کرمنل ریکارڈ کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایک بار اعتبار اٹھ گیا تو وہ آپ کیسے دوبارہ حاصل کریں گے؟ جب بھی کوئی ٹکٹ خریدے گا وہ بھروسہ کرے گا کہ فیلڈ میں جو بھی ہو گا اس میں بدعنوانی شامل نہیں ہو گی۔‘

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ انگلینڈ اور پاکستان آمنے سامنے ہوں گے لیکن موسم گرما میں پاکستان انگلینڈ کا دورہ کرے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ محمد عامر اس ٹیم کا حصہ ہو اور لارڈز میں دوبارہ کھیلے۔

سوان نے کہا ’اس بارے میں کہنا بہت مشکل ہے کہ میرا ردِ عمل کیا ہو گا۔ میں یہاں بیٹھا ہوا یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کھیلنے سے انکار کر دیتا۔ لیکن کھلاڑیوں کے لیے سوال اس سے کہیں بڑا ہے کیونکہ حکام نے ان تینوں کو کلیئر کر دیا ہے۔

’میں کم از کم کھلے عام بیان دیتا اور کہتا کہ اس کھلاڑی کو نہیں کھیلنا چاہیے۔ مجھے ان کھلاڑیوں سے ہمدردی ہے جن کو اس کے خلاف کھیلنا پڑے گا۔ براڈ ایلسٹر کُک اور جیمز اینڈرسن جیسے کھلاڑیوں کو ان کے خلاف نہیں کھیلنا چاہیے۔‘

’میں خوش آمدید کہتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty AFP

پال گریسن ایسکس کے اس وقت کوچ تھے جب مروین ویسٹ فیلڈ نے 2009 میں ایک میچ میں جان بوجھ کر بری پرفارمنس دی۔ ویسٹ فیلڈ کو دانش کنیریا نے ترغیب دی کہ وہ سپاٹ فکسنگ کرے۔

’مجھے دیسٹ فیلڈ سے ہمدردی ہے کیونکہ وہ ایک بہترین کھلاڑی تھا۔ وہ ایسکس میں اپنی جگہ بنا رہا تھا لیکن وہ سب ختم ہو گیا۔ مجھے دانش نے دھوکہ دیا۔ میرے اس کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات تھے۔ اور میں اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن پھر ہمیں اس سب کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ سب کے لیے مشکل صورتحال تھی۔ سینیئر کھلاڑیوں کو دانش پر بہت غصہ تھا کہ اس نے ویسٹ فیلڈ کو اکسایا۔ ٹیم کو اس معاملے کو پیچھے چھوڑنے کے لیے کافی وقت لگا۔‘

ویسٹ فیلڈ پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی لیکن 2014 میں ان کو کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی۔ ان پر لگائی گئی پابندی کے پانچ سال 2017 میں ختم ہوں گے۔

’جہاں تک ویسٹ فیلڈ کا تعلق ہے تو میں اس کی واپسی پر بہت خوش ہوں گا۔ اس نے ایک غلطی اور اس کو مانا اور اس کو سزا مل گئی۔ دانش کنیریا کا کیس مختلف ہے۔ وہ ایک سینیئر کھلاڑی ہے جس کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’مجھے معلوم ہے کہ کھلاڑی سپاٹ فکسرز کی واپسی پر ہچکچاتے کیوں ہیں۔ انفرادی طور پر کچھ کھلاڑی ہچکچائیں گے اور ان کو اپنانے کے لیے وقت لگتا ہے۔

’کوچ ہونے کے ناتے میرا کام ہے کہ جو کھلاڑی سپاٹ فکسر کی واپسی سے خوش نہیں ہیں ان کو بٹھا کر بات کی جائے۔‘

’مجھے نہیں لگتا کہ یہ ممکن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جو گیٹنگ سسکس کی ٹیم میں تھے جب 2011 میں لنکاشائر کے خلاف ایک روزہ میچ میں لو ونسنٹ اور نوید عارف نے سپاٹ فکسنگ کی۔

ان کا کہنا ہے ’جن ٹیموں کی جانب سے میں کھیلا ہوں ان میں سب سے اہم اعتماد ہوتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں ایسے شخص کے ساتھ بیٹھ سکوں گا جو سزا یافتہ ہے۔ بہت سے کھلاڑیوں کے ذہن میں شک ہو گا جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ کھیل پر توجہ نہ دی جاسکے۔‘

’کھیل میں یہ ضروری ہے کہ ڈریسنگ روم میں آپ 11 کھلاڑیوں کی طرف دیکھیں اور کہیں کہ یہ سب جیتنے کے لیے سخت محنت کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مشکل ہے۔‘

’نفسیاتی دباؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

محمد عامر پر نیوزی لینڈ میں شائقین نے جملے کسے اور ویسٹ فیلڈ کا کہنا ہے کہ جب وہ موسم گرما میں ان کی واپسی ہو گی تو ان کو مشکلات پیش آئیں گی۔

لیکن دونوں کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز کا مشورہ سننا چاہیے جو فکسنگ کے الزام میں چھ ماہ کی پابندی کاٹ کر واپس آئے۔

گبز کا کہنا ہے ’انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پر میں بہت پریشان اور جذباتی تھا۔ خوش قسمتی سے مجھے جنوبی افریقہ کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی اور خاص طور پر میرے ساتھی کھلاڑیوں کی۔

’پہلا ٹیسٹ سری لنکا کے خلاف تھا اور انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ مجھے سپاٹ فکسنگ یاد کرائیں۔ میں اپنی بیٹنگ پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ میرے خیال میں میں بغیر رن بنائے آوٹ ہو گیا۔ یہ آسان نہیں تھا۔ ایک دو سال بہت مشکل تھے۔

’پابندی ختم ہونے کے بعد میں کرکٹ میں واپسی پر بہت خوش تھا لیکن نفسیاتی دباؤ نے مجھے متاثر کیا۔ میرے اہل خانہ اور دوستوں نے میری مدد کی۔‘

اگرچہ بہت سے کھلاڑیوں نے سپاٹ فکسرز پر تاحیات پابندی کا مطالبہ کیا ہے جن میں کیون پیٹرسن، مرلی دھرن اور مائیکل واؤن شامل ہیں لیکن انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے محمد عامر کی واپسی کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن نے ویسٹ فیلڈ کی واپسی کے لیے جدوجہد کی۔

اسی بارے میں