ٹی 20 ایشیا کپ: پہلے میچ میں بنگلہ دیش اور بھارت مدمقابل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر دھونی فٹ نہیں ہوئے تو ان کی جگہ وراٹ کوہلی ٹیم کی کپتانی کرتے نظر آئیں گے

بنگلہ دیش میں بدھ سے ٹی 20 کرکٹ کے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کا آغاز ہو رہا ہے جس کا پہلا ميچ میزبان بنگلہ دیش اور بھارتی ٹیم کے درمیان ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں پانچ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ بھارت، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم اس میں شامل ہے۔

ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل بھارتی ٹیم میں اس وقت تشویش پیدا ہو گئی جب پریکٹس سیشن کے دوران کپتان مہندر سنگھ دھونی کی پیٹھ کے پٹھوں میں كھنچاؤ آ گیا۔

ان کی جگہ وکٹ کیپر بلے باز پارتھیو پٹیل کو بیک اپ کے طور پر بنگلہ دیش روانہ کیا گيا ہے۔

اگر دھونی فٹ نہیں ہوئے تو ان کی جگہ وراٹ کوہلی ٹیم کی کپتانی کرتے نظر آئیں گے۔

وراٹ کوہلی کو گذشتہ دنوں آسٹریلیا کے بعد سری لنکا کے خلاف ہونے والی ٹی20 سیریز میں آرام دیا گیا تھا۔

وراٹ کوہلی نے کہا کہ اب بین الاقوامی سطح پر ایشیا کی بہترین ٹیموں سے مقابلہ ہے اور ویسے بھی ایشیا کپ اور ٹی 20 ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ میں مختلف طور پر کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ٹورنامنٹ میں پانچ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں

انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ایشیا کی مختلف ٹیموں کے ساتھ کھیلنے سے ٹیم کی حقیقی حالت سامنے آئے گي۔

پاکستان اور سری لنکا کی بات پر وراٹ کوہلی نے کہا کہ ’ٹی 20 میں کوئی بھی ٹیم کمزور یا طاقتور نہیں ہوتی۔ کسی بھی دن کوئی بھی ٹیم جیت سکتی ہے۔‘

پاکستان کے خلاف کھیلنا وراٹ کوہلی کے لیے مختلف نہیں ہے۔

وراٹ نے کہا: ’پاکستان کے خلاف میچ کے متعلق بہت باتیں کی جاتی ہیں لیکن میدان میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ لوگوں میں ضرور جوش ہوتا ہے کہ میچ میں کیا ہوگا لیکن تمام گیارہ کھلاڑیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے اور وہ کس طرح کر سکتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش نے اس سے قبل بھارت اور پاکستان دونوں کو شکست دے رکھی ہے تاہم گذشتہ چھ ٹی 20 مقابلوں میں سے پانچ میں بھارت کامیاب رہا ہے۔

جہاں بھارت میں لوگوں کی نظر یوراج سنگھ پر ہوگی وہیں بنگلہ دیش کی جانب سے تمیم اقبال اور محمد اللہ اہم کردار ادا کر سکتے۔

بھارتی ٹیم ابھی تک فارم میں نظر آ رہی ہے اور اسے بے جان پچوں پر شکست دینا مشکل ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی ٹیم و مستفیض الرحمان بھی یا ہوں گے جنھوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کو مشکلات میں ڈال دیا تھا۔

اسی بارے میں