تبدیلیاں ہوں گی مگر کپتان نہیں بدلےگا: شہریار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم میں تبدیلی کے لیے سلیکشن کمیٹی کی ضرورت پڑے گی لہذا فوری طور پر سلیکشن کمیٹی کو فارغ کرنا بھی مناسب نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اس ماہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے سکواڈ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے فوری طور پر شاہد آفریدی کو ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

پاکستانی ٹیم گذشتہ شب بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے بعد ایشیا کپ سے باہر ہوگئی تھی اور اس ہار کے بعد سے جہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو زبردست تنقید کا سامنا ہے وہیں ٹیم اور منیجمنٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ انھیں ٹیم کی اس طرح کی کارکردگی سے بہت دکھ پہنچا ہے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں ضروری ردوبدل کیا جائے اور اس سلسلے میں تبدیلیاں ہوں گی تاہم فوری طور پر وہ شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹانے کے حق میں نہیں کیونکہ ’یہ ایک بڑے کھلاڑی کی توہین ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کی کارکردگی پر کافی دنوں سے تنقید ہو رہی ہے اور ان کی کپتانی میں جو خامی ہے وہ اس وقت دور نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اپنے کریئر کے آخری دنوں میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان کے مطابق شاہد آفریدی کی کپتانی میں جو خامی ہے وہ اس وقت دور نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اپنے کریئر کے آخری دنوں میں ہیں

شہریارخان نے کہا کہ شاہد آفریدی نے ان سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک کپتانی کرتے رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر انھیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ چونکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں تبدیلی کے لیے سلیکشن کمیٹی کی ضرورت پڑے گی لہذا فوری طور پر سلیکشن کمیٹی کو فارغ کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

شہریارخان نے کہا کہ وہ ٹیم کے انتخاب میں کبھی بھی مداخلت نہیں کرتے اور اگر کسی سلیکشن پر انھیں اعتراض ہوتا ہے تو وہ سلیکشن کمیٹی سے بات کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اس بار بھی انھیں ایک دو ناموں پر تحفظات تھے اور انھوں نے منتخب کردہ ٹیم سلیکشن کمیٹی کو واپس بھیجی لیکن چیف سلیکٹر نے انھیں یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیم کپتان اور کوچ کی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر منتخب کی گئی ہے لہٰذا اانھوں نے ٹیم کی منظوری دے دی۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی بہتری کے لیے جو بھی فیصلے کیے جائیں گے وہ ایماندارانہ ہونگے اور کسی کو بھی قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔

اانھوں نے کہا کہ اظہر محمود کو دو ایونٹس کے لیے بولنگ کوچ مقرر کرنے کا فیصلہ مثبت سوچ کے ساتھ کیا گیا تھا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں