پاکستانی سکیورٹی ٹیم بھارت پہنچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے بدھ کو شیڈول کے مطابق بھارت روانہ ہونا ہے

بھارت میں رواں ماہ کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستانی ٹیم کی مجوزہ سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی دو رکنی پاکستانی سکیورٹی ٹیم بھارت پہنچ گئی ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان نے قومی ٹیم کی عالمی مقابلوں میں شرکت کو اس ٹیم کی رپورٹ سے مشروط کیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت جانے والی ٹیم میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر عثمان انور اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سکیورٹی افسر کرنل ریٹائرڈ اعظم شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹیم اپنے اس دورے کے دوران ریاست ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ اور ریاستی پولیس کے سربراہ سے ملاقاتیں کرے گی۔

پاکستان نے ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں 19 مارچ کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنا ہے تاہم ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں پاکستانی ٹیم کو سکیورٹی دینے سے معذرت کر لی ہے۔

ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت ہے اور پارٹی کے ایک سینیئر وزیر جی ایس بالی بھی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر دھرم شالہ سے میچ منتقل نہیں کیا گیا تو وہ اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔

اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے بھی میچ کے انعقاد کی مخالفت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کہہ چکے ہیں کہ اگر سکیورٹی ٹیم کی جانب سے بھیجی جانے والی ابتدائی رپورٹ مثبت ہوئی تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم بدھ کو شیڈول کے مطابق بھارت روانہ ہو جائے گی۔

تاہم سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر سکیورٹی کا مسئلہ برقرار رہا تو ٹیم کے روانہ ہونے میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے اور جب تک حکومت پاکستان سکیورٹی کے حوالے سے مطمئن نہیں ہوگی کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے کا گرین سگنل نہیں دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ سکیورٹی سے مراد صرف ہوٹل یا دوران سفر سکیورٹی فراہم کرنا نہیں بلکہ گراؤنڈ میں جب کھلاڑی آئیں، تو ہزاروں کے مجمعے کے درمیان بھی انھیں سکیورٹی مہیا ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی فراہم کرنا آئی سی سی اور بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے اور کھلاڑیوں کو سیاست اور تخریب کاری کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

اسی بارے میں