ٹورنامنٹ سر پر، پاکستانی ٹیم کھیلے گی یا نہیں، پتہ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ unk
Image caption پاکستان کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے

پاکستان کی تین رکنی سکیورٹی کمیٹی آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کپ کے میچ کے دوران ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے دھرم شالہ میں موجود ہے۔ پروگرام کے مطابق 19 مارچ کو یہاں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہونا ہے لیکن سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر اس میچ کے انعقاد کے بارے میں اندیشے پیدا ہونے لگے تھے۔

خیال رہے کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کپ کا پہلا میچ منگل کو ناگ پور میں زمبابوے اور ہانگ کانگ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق سابق فوجیوں کی ایک تنظیم اور خود ریاست کے وزیر اعلیٰ ویر بھدر سنگھ کی جانب سے یہاں بھارت پاک میچ کرانے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ماحول میں یہاں میچ کرانا مشکل ہو گا۔ سابق فوجیوں نے کھیل کے دوران مظاہرے اور دھرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ میچوں کے پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں چاہتا ہے اور دہلی میں آئی سی سی کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بھی شیڈول میں تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان سے وفاقی تفتیشی ایجنسی کے سربراہ عثمان انور اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکورٹی سربراہ کرنل اعظم خان اور یہاں دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں ڈپٹی ہائی کمشنر عبید نظامانی سکیورٹی ٹیم میں شامل ہیں۔ ان اہلکاروں نے ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کے سٹیڈیم کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے اہلکاروں اور پولیس کے سربراہ سے ملاقات کے بعد حکومت پاکستان اور کرکٹ بورڈ کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

بھارت کی حکومت اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سینئیر اہلکاروں انوراگ ٹھاکر اور راجیو شکلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ’فول پروف سکیورٹی‘ فراہم کی جائے گی۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ویر بھدر سنگھ نے بھی ہماچل ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عزرداری کے جواب میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے جس میں انھوں نے عدالت عالیہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ کھلاڑیوں اور میچ کا تحفظ کرنے میں اپنی آئینی ذمے دارے پوری طرح نبھائیں گے۔ ریاستی کانگریس پارٹی نے بھی 19 مارچ کے مقابلے کی مخالفت کے حوالے سے اپنا لب و لہجہ نرم کیا ہے۔

پاکستان میں سکیورٹی ٹیم کے جائزے کی رپورٹ کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کی بعض خبروں کے مطاق دھرم شالہ میں بھی موڈ یہی ہے کہ یہ میچ ضرور ہو کیونکہ بھارت اور پاکستان کا میچ کھیل سے بھی زیادہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2011 میں ہونے والے عالمی کپ مقابلے کا ایک منظر

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ایک جانب تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے تو دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ایشیا کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا رہی ہیں۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے خرم منظور کو ڈراپ کرتے ہوئے احمد شہزاد کو شامل کیا گیا ہے تاہم سلیکشن کے معاملات پر کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقاریونس کے درمیان ایک بار پھر اتفاق رائے نہیں پایا جا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہر یار خان نے واضح کردیا ہے کہ کوچ وقار یونس کے مستقبل کا انحصار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کی کارکردگی پر ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد سلیکشن کمیٹی کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ ایشیا کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا چکا ہے جس پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے تنقید کی ہے اور اسے کھلاڑیوں پر غیر ضروری دباؤ قائم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں